ریونت ریڈی حکومت نے ایک سال میں 1.40 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کیا

   

خواتین کو 2500 روپے مالی امداد، دلہنوں کو ایک تولہ سونا، کوئی نئی کنال تعمیر نہیں کی گئی: کے ٹی آر
حیدرآباد۔ 20 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے ایک سال میں ایک لاکھ 40 ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کرنے کا ریونت ریڈی حکومت پر الزام عائد کیا۔ حاصل کردہ قرض سے کیا کیا گیا کانگریس حکومت سے استفسار کیا۔ تلنگانہ بھون میں بی آر ایس مزدور تنظیم کے کیلنڈر کا رسم اجرا کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ اتنا بھاری قرض حاصل کرنے کے باوجود کوئی نئی پائیپ لائن نہیں بچھائی گئی۔ ایک کنال تعمیر نہیں کیا گیا، کوئی مزدور کو فائدہ نہیں پہنچایا گیا۔ ایک خاتون کو بھی 2500 روپے کی مالی امداد نہیں دی گئی۔ دلہنوں کو تحفہ میں ایک تولہ سونا نہیں دیا گیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں ڈھیر سارے وعدے کئے۔ وعدوں پر عمل آوری نہ ہونے کے تعلق سے سوال کرنے پر بی آر ایس قائدین کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرتے ہوئے انہیں ڈرایا دھمکایا جارہا ہے۔ کے سی آر کے خلاف ریاست کو مقروض کردینے کے الزامات عائد کئے گئے۔ 2014 میں جب کانگریس نے بی آر ایس کو حکومت حوالے کیا تھا اس وقت تلنگانہ کا قرض 72 ہزار کروڑ روپے تھا اور فی کس آمدنی ایک لاکھ 14 ہزار روپے تھی۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں فی کس آمدنی 3 لاکھ 56 ہزار روپے تک پہنچ گئی اور کانگریس کو 5,944 کروڑ روپے فاضل بجٹ کے ساتھ حکومت کے حوالے کیا گیا تھا۔ کے سی آر نے اثاثہ جات پیدا کرتے ہوئے پرانے قرض کو ادا کیا۔ تمام مسائل کو حل کیا۔ 10 سال میں صرف 4 لاکھ 17 ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا گیا۔ یہ قرض نہیں بلکہ سرمایہ کاری تھی۔ کئی آبپاشی پراجکٹس تعمیر کئے گئے۔ کالیشورم، پالمور، رنگاریڈی، سیتارام، دامر چرلہ، برقی پلانٹ، میڈیکل کالجس، ریتو ویدکا کی تعمیرات کی گئی۔ کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے پر تمام وعدوں پر عمل کرنے کا کانگریس قائدین نے عوام کو یقین دلایا۔ مگر کوئی بھی وعدہ پورا نہیں کیا گیا۔ ملازمتوں سے سبکدوش ہونے والے ایمپلائز کو ریٹائرمنٹ بینیفٹس نہیں دیئے جارہے ہیں۔ ڈی اے بقایا جات زیر التواء ہے۔ پی آر سی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ کے سی آر نے سالانہ 40 ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کرتے ہوئے ترقیاتی و فلاحی کاموں کے لئے خرچ کیا۔ لیکن ریونت ریڈی سال میں ایک لاکھ 40 ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کرتے ہوئے کوئی ترقیات اقدامات نہیں کئے۔ 2