ریونت ریڈی کی راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور ملکارجن کھرگے سے ملاقات

,

   

ورنگل میں کسانوں کے جلسہ عام میں شرکت کی دعوت، کابینہ میں توسیع اور نئے صدر پردیش کانگریس کے تقرر پر بات چیت
حیدرآباد 22 جولائی (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج نئی دہلی میں لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی سے ملاقات کی اور تلنگانہ میں کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات کی معافی پر عمل آوری سے واقف کرایا۔ چیف منسٹر جو اتوار سے نئی دہلی میں ہیں، آج راہول گاندھی کے علاوہ صدر کانگریس ملکارجن کھرگے اور جنرل سکریٹری اے آئی سی سی پرینکا گاندھی سے ملاقات کی۔ چیف منسٹر کے ہمراہ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ دیپاداس منشی، ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی کے علاوہ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ موجود تھے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے راہول گاندھی کو 15 اگسٹ تک کسانوں کے 2 لاکھ روپئے تک کے قرضہ جات کی معافی کے تحت 31 ہزار کروڑ کی اجرائی کے منصوبے سے واقف کرایا۔ پہلے مرحلہ میں 6 ہزار کروڑ کسانوں کے اکاؤنٹ میں منتقل کئے گئے تاکہ ایک لاکھ روپئے تک کا قرض معاف ہوجائے۔ ریونت ریڈی نے راہول گاندھی کو جاریہ ماہ کے اواخر میں ورنگل میں کسانوں کے جلسہ عام میں شرکت کی دعوت دی۔ اُنھوں نے بتایا کہ الیکشن سے قبل ورنگل میں جس مقام پر کسانوں کا ڈیکلریشن راہول گاندھی نے جاری کیا تھا، اُسی مقام پر اظہار تشکر جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں 5 لاکھ سے زائد کسان شرکت کریں گے۔ چیف منسٹر نے 28 جولائی کی تاریخ طے کی ہے تاہم راہول گاندھی سے خواہش کی گئی کہ وہ اپنی مصروفیات کے مطابق شرکت کے فیصلہ سے آگاہ کریں۔ پارلیمنٹ سیشن کے پیش نظر اتوار 28 جولائی کو ورنگل میں جلسہ عام کا فیصلہ کیا گیا جس کی تیاریاں شروع ہوچکی ہیں۔ ریونت ریڈی نے راہول گاندھی سے خواہش کی کہ وہ جلسہ عام میں شرکت کے ذریعہ کسانوں کے اظہار تشکر کو قبول کریں۔ اُنھوں نے 6 ضمانتوں پر عمل آوری کی تفصیلات سے بھی راہول گاندھی کو واقف کرایا۔ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں سرکاری محکمہ جات کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے لئے جاب کیلنڈر جاری کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق راہول گاندھی نے 28 جولائی کے جلسہ عام میں شرکت سے اتفاق کیا ہے تاہم اندرون دو یوم قطعی طور پر توثیق کی جائے گی۔ راہول گاندھی نے کسانوں کے 2 لاکھ تک کے قرضہ جات کی معافی کو جرأت مندانہ اقدام قرار دیا اور کہاکہ حکومت کی جانب سے وسائل اکٹھا کرنے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ راہول گاندھی نے واضح کیاکہ عوام سے جن 6 ضمانتوں کا وعدہ کیا گیا ہے، اُن کے بارے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا اور وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی نے بجٹ کی تیاری اور آبپاشی پراجکٹس کی تکمیل کے منصوبے سے واقف کرایا۔ چیف منسٹر نے صدر کانگریس ملکارجن کھرگے سے ملاقات کے دوران انتخابی وعدوں کی تکمیل اور خاص طور پر کسانوں کے قرض معافی اسکیم سے واقف کرایا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی نے راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے سے نئے صدر پردیش کانگریس کے تقرر، کابینہ میں توسیع اور نامزد عہدوں پر تقررات کے اُمور پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس کے 10 ارکان اسمبلی کی شمولیت اور بجٹ سیشن کے بعد مزید ارکان اسمبلی کی شمولیت کے منصوبے سے آگاہ کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ راہول گاندھی کو کابینہ میں بی آر ایس ارکان کی شمولیت کے بارے میں موقف واضح کرنے کی اپیل کی گئی۔ بی آر ایس ارکان کی کابینہ میں شمولیت سے پارٹی کے ارکان اسمبلی میں ناراضگی کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کابینہ میں توسیع اور پردیش کانگریس کی صدارت پر انتخاب کے بارے میں راہول گاندھی نے ملکارجن کھرگے سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرنے کا تیقن دیا۔ ریاستی کابینہ میں 6 وزراء کی شمولیت کی گنجائش ہے۔ اسمبلی ارکان کی تعداد کے اعتبار سے 18 رکنی کابینہ تشکیل دی جاسکتی ہے اور چیف منسٹر کے بشمول 12 وزراء نے 7 ڈسمبر کو حلف لیا ہے۔ مزید 6 وزارتوں کے لئے کانگریس کے ارکان اسمبلی میں مسابقت جاری ہے۔ ریونت ریڈی نے ساتھی وزراء کے ہمراہ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی پرینکا گاندھی سے ملاقات کی اور اُنھیں انتخابی وعدوں کی تکمیل کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ بتایا جاتا ہے کہ پرینکا گاندھی نے ریونت ریڈی حکومت کی کارکردگی کی ستائش کی اور کہاکہ ورنگل میں کسانوں کے جلسہ عام کا اہتمام پارٹی کے حق میں بہتر فیصلہ ہوگا۔ ذرائع کے مطابق کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ کے اُمور کے بارے میں انچارج جنرل سکریٹری دیپاداس منشی سے رپورٹ طلب کی ہے۔ 1