زمانہء امام مہدی ؑمیں’ زجاجۃ المصابیح ‘کی افادیت

   

فقہاء مجتہدین میں سب سے بڑا مقام حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ کا ہے اور سواد اعظم اہل سنت و جماعت میں دنیا بھر میں آپ ہی کے مقلدین سب سے زیادہ ہیں ۔جامعیت کے لحاظ سے حدیث شریف کی بڑی اہم کتاب، مشکوٰۃ المصابیح، عرصہء دراز سے دینی مدارس میں پڑھائی جارہی ہے چونکہ کتاب کے مصنف شافعی ہیں اس لیے اختلافی مقامات پر وہی احادیث لائے ہیں جن سے حضرات شافعیہ استدلال کرتے ہیں زمانہء دراز سے یہ ضرورت بڑی شدت سے محسوس کی جا رہی تھی کہ طلباء کو پڑھانے کے لئے مشکوٰۃ شریف، کے انداز پر ایک کتاب لکھی جائے جس میں وہ احادیث جمع کردی جائیں جن سے فقہائے احناف استدلال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت حضرت محدث دکن ابو الحسنات سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری ؒکو عطاء فرمائی ۔ آپ نے زجاجۃ المصابیح‘ کے نام سے تقریباً دو ہزار پانچ سو صفحات پر مشتمل پانچ جلدوں میں کتاب تصنیف فرمائی ۔ حضرت محدث دکن ؒ فرماتے ہیں کہ مشکوۃ شریف کے مطالعہ سے میرے دل میں یہ بات اکثر رہا کرتی کہ میں مشکوۃ شریف کے طرز پر ایک کتاب لکھوں جس میں اپنے امام حضرت ابو حنیفہ ؒکے مسلک کو اختیار کروں مگر میری بے بضاعتی مجھے اس مرتبہ کو حاصل کرنے سے روک رہی تھی کہ اسی زمانہ میں میں نے ایک خواب دیکھا کہ آقائے نامدار حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ و سلم تشریف فرما اور جلوہ افروز ہوئے اور سلام فرمایا میں نے سلام کا جواب عرض کیا میری جان آپ پر قربان، آپ نے اپنے سینہء مبارک سے جو علم اور حکمتوں کا سر چشمہ ہے چمٹا کر گلے سے لگا لیا جب میں نیند سے خوشی خوشی اُٹھا تو اس نعمت پر اللہ کی حمد کی اور اس کا شکر ادا کیا الغرض اس نیک اور مبارک خواب سے میرا سینہ کھل گیا اور اس کام کی تمام مشکلات مجھ پر آسان ہو گئی اور میں نے اس کتاب کی تکمیل و تالیف کا عزم کر لیا اور اس کے لکھنے کے لئے کمر ہمت باندھ لی بحمد اللہ میں ہر حدیث درج کرتے وقت ضرور رسول اللہ ﷺپر درود بھیجتا رہا اور میں نے ’ زجاجۃ المصابیح‘ اس کتاب کا نام تجویز کیا اور آخر میں آپ نے بارگاہِ ربوبیت و رسالت مآب میں کتاب کی مقبولیت اور آخرت میں ذخیرہ اور قارئین کے لئے نفع بخش بنانے کی دعاء فرمائی۔زجاجہ اپنی اہمیت و افادیت کی بنیاد پر دنیا بھر کے مختلف جامعات میں داخل نصاب ہے تو دوسری طرف عالم اسلام کی اہم اور بڑی لائبریریوں میں محفوظ ہے خصوصیت کے ساتھ مدینہ منورہ مسجد نبوی ﷺ میں بھی ’ زجاجۃ المصابیح‘ رکھی ہوئی ہے جہاں سے لاکھوں تشنگانِ علوم حدیث و حنفیت استفادہ کرتے ہوئے ہدایت پا رہے ہیں۔
علماء نے کہا کہ حضرت محدث دکن قدس سرہ کی تالیف جلیل زجاجۃ المصابیح کی افادیت اس زمانہ میں عام ہوگی جب کہ حضرت سیدنا امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا اس لئے کہ یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ حضرت سیدنا امام مہدی علیہ السلام اپنے کشف سے فروعات میں حضرت سیدنا امام اعظم ابو حنیفہ ؒکے مسلک کو اختیار فرمائیں گے (واللہ اعلم بالصواب) ۔بہر حال قارئین کرام ہم اہل دکن انتہائی خوش قسمت ہیں کہ محدث دکن حضرت ابو الحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری ؒکوہمارے درمیان پیدا فرمایا اور رکھا ہے ۔