نئی دہلی : حکومت نے آج راجیہ سبھا کو بتایا کہ عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد تشویشناک ہے ، لیکن اس مسئلے کو اس وقت تک حل نہیں کیا جا سکتا جب تک ججوں کی تقرری کے لیے کالجیم نظام کی جگہ نیا نظام نافذ نہیں کیا جاتا ۔ مرکزی وزیر قانون و انصاف کرن رجیجو نے ایوان میں وقفہ سوالات کے دوران ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد پانچ کروڑ کے قریب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن سب سے بڑی وجہ ججوں کی تقرری کا کالجیم نظام ہے ۔ ججوں کی تقرری حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اور یہی وجہ ہے کہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے کالجیم سسٹم کی جگہ نیشنل جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن کی تشکیل کا بل متفقہ طور پر منظور کیا تھا تاہم سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وقتاً فوقتاً ملک کی مختلف شخصیات نے اس قدم کو غلط قرار دیا ہے ۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ نظام ملک اورایوان کی سوچ کے مطابق نہیں ہے ۔مسٹر رجیجو نے کہا کہ حکومت کے پاس محدود اختیارات کے باوجود مقدمات کے التوا کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منظور شدہ آسامیاں پر نہ ہونے سے عدالتوں کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے ۔