سائبردھوکہ دہی میں ملوث 52 افراد بشمول بینک عہدیداران گرفتار

   

آپریشن آکٹوپس کے تحت ملک کے مختلف ریاستوں میں بیک وقت کارروائی
حیدرآباد ۔ 19 اپریل (سیاست نیوز) حیدرآباد کی سائبر کرائم پولیس نے ’’آپریشن آکٹوپس ۔ 2‘‘ کے تحت بین ریاستی کارروائی کرتے ہوئے سائبر دھوکہ دہی واقعات میں ملوث 52 افراد بشمول بینک عہدیداروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کمشنر حیدرآباد وی سی سجنار نے میڈیا کو بتایا کہ سائبر کرائم کی 16 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے جس میں آپریشن آکٹوپس کے تحت ملک کے مختلف ریاستوں میں بیک وقت کارروائی کرتے ہوئے 52 افراد بشمول 32 بینک عہدیدار بھی شامل ہے اور سائبردھوکہ دہی معاملات میں ملوث ہے، کو گرفتار کرلیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کی سائبر کرائم نے 350 مشکوک بینک کھاتوں کا پتہ لگایا ہے جو ملک بھر میں 850 سائبر دھوکہ دہی کیس میں ملوث ہے اور 150 کروڑ کی دھوکہ دہی سے وابستہ ہے۔ پولیس سجنار نے کہا کہ حیدرآباد کی سائبرکرائم پولیس نے اپنے شاندار مظاہرہ میں سائبر دھوکہ دہی کے بڑے نیٹ ورک کو توڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن آکٹوپس۔2 کا مقصد سائبر دھوکہ بازوں کے علاوہ اس نیٹ ورک میں شامل بینک عہدیداروں کی گرفتاری اصل مقصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 10 بینکوں کے 32 عہدیدار اس دھوکہ دہی میں شامل ہے جبکہ میول اکاؤنٹ رکھنے والے 15 افراد اور فرضی اکاؤنٹ فراہم کرنے یعنی 5 دلال بھی شامل ہے۔ اس کارروائی میں پولیس نے 26 موبائل فونس، چیک بک، پین ڈرائیو، لیاب ٹاپ اور شیل کمپنیوں کے 21 اسٹامپس برآمد کئے ہیں۔ اس کارروائی میں ڈپٹی کمشنر پولیس سائبرکرائم وی اروند بابو اور اے سی پی آر جی شیواماروتی نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔بH/ / M