حیدرآباد۔/12اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تعلیم کے حصول کیلئے عمر اور پیشہ کی کوئی پابندی نہیں ہوتی اور کوئی بھی شخص کسی بھی وقت تعلیم حاصل کرتے ہوئے اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کرسکتا ہے۔ تلنگانہ کی سابق نکسلائیٹ ڈی انوسیا عرف سیتکا جنہوں نے قومی دھارے میں شمولیت کیلئے بندوق کو ترک کردیا، وہ پہلے وکیل بنیں اور بعد میں رکن اسمبلی منتخب ہوئیں۔ سیتکا کے سیاسی کیریئر کا تلگو دیشم سے آغاز ہوا لیکن وہ آج کانگریس کی رکن اسمبلی ہیں۔ سابق نکسلائیٹ اور موجودہ رکن اسمبلی اب ڈاکٹر سیتکا بن چکی ہیں اور عثمانیہ یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطاء کی ہے۔ ملگ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرنے والی ڈی انوسیا کو پولٹیکل سائینس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری عطاء کی گئی۔ انہوں نے متحدہ آندھرا پردیش کے مائیگرنٹ قبائیلیوں کے مسائل اور ورنگل اور کھمم اضلاع کے قبائیل پر جامع مقالہ پیش کیا تھا۔ سیتکا نے کہا کہ بچپن میں میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ نکسلائیٹ بن جاؤں گی۔ جب میں نکسلائیٹ تھی تو میں نے سوچا نہیں کہ وکیل بنوں گی۔ جب میں وکیل بن گئی مجھے کبھی بھی رکن اسمبلی کا خیال نہیں آیا۔ جب میں ایم ایل اے بن گئی تو مجھے پی ایچ ڈی کا ذہن نہیں تھا لیکن آج لوگ مجھے ڈاکٹر انوسیا سیتکا ( پی ایچ ڈی ، پولٹیکل سائینس) کہہ کر مخاطب کرسکتے ہیں۔ 51 سالہ رکن اسمبلی نے پی ایچ ڈی کے گائیڈ پروفیسر ٹی تروپتی راؤ سابق وائس چانسلر عثمانیہ یونیورسٹی اور موجودہ چانسلر منی پور یونیورسٹی کے علاوہ ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ پروفیسر مسلیا ، پروفیسر اشوک اور پروفیسر چندرو نائیک کا شکریہ ادا کیا۔ر