حیدرآباد ۔ 23 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد کے نظامس کی ناگ سانپ کی شکل کی تلوار جسے اس ماہ کے اوائل میں دہلی لایا گیا ، حیدرآباد کے مشہور سالار جنگ میوزیم میں عوام کے دیکھنے کے لیے رکھا جائے گا ۔ یو کے میں ہائی کمیشن آف انڈیا اور یونائٹیڈ کنگ ڈم کے گلا گو لائف نے ، جو گلاس گو کے میوزیمس کے انتظامات کرتا ہے ، ایک معاہدہ پر دستخط کئے جس کے بعد ہندوستان نظام حیدرآباد کی یہ منفرد ، بے مثال تلوار کو حاصل کیا ۔ یہ روایتی تلوار ہند ۔ پاک ڈیزائن کی ہے اور اس کی شکل ایک سانپ جیسی ہے اور اس کے کنارے دندانہ دار ہیں ۔ ’ یہ تلوار نظام ششم میر محبوب علی خاں کے دور حکومت میں کسی وقت گم ہوگئی تھی ‘ ۔ یہ بات کنوینر اینٹک پی انورادھا ریڈی نے کہی ۔ اور کہا کہ ان کا خیال ہے کہ سر آر چیبالڈہنٹر ، جو 1907 میں سدرن آرمی کے جنرل آفیسر کمانڈنگ تھے کو حیدرآباد کے حکمرانوں کی جانب سے یہ تلوار پیش کی گئی تھی ہوں گی ۔ اسی لیے وہ ان کے ساتھ یوروپ گئی ، ہندوستان کے اکویزیشن ڈاکومنٹ میں کہا گیا کہ اسے مہاراجہ کشن پرشاد سے خریدا گیا تھا ۔ گلاس گو میوزیم ڈاکومنٹیشن کے مطابق ’ اس تلوار کی نمائش حیدرآباد کے نظام آصف جاہ ششم محبوب علی خاں نے کنگ ایڈورڈ ہفتم اور کوئین الیگزینڈرا کے روایتی استقبال کے لیے 1903 میں دہلی میں منعقدہ ایمپریل دربار میں کی تھی ‘ ۔ ڈائرکٹر سالار جنگ میوزیم اے ناگیندر ریڈی نے کہا کہ ’ سالار جنگ میوزیم ، حیدرآباد اس تلوار کو رکھنے کے لیے نہایت موزوں مقام ہے کیوں کہ یہ اسی علاقہ کی ہے ‘ ۔۔