سبھی مشکوک کرداروں سے بچنا

   

SIR ڈکیتی… چوکیدار اور پہرہ دار دونوں چور نکلے
الیکشن کمشنرس کی بغاوت … گیانیش کمار ماسٹر مائینڈ

رشیدالدین
’’چوکیدار اور پہرہ دار دونوں چور ہیں‘‘ یہ جملہ سنتے ہی عام طور پر نریندر مودی اور امیت شاہ کا خیال ذہن میں ابھرتا ہے کیونکہ ایک وزیراعظم اور دوسرے وزیر داخلہ ہیں۔ عوام کا تعارف ہم ایسے دو افراد سے کرانا چاہتے ہیں جنہوں نے جمہوریت کو پامال کردیا۔ ملک کے انتخابی سسٹم کو تباہ کرتے ہوئے برسر اقتدار پارٹی کے حق میں صرف ووٹ چوری نہیں بلکہ ووٹ ڈکیتی کے مرتکب ہوئے۔ ایک ہیں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار جو جمہوریت کے چوکیدار ہیں جبکہ دوسرے وزیراعظم کے کابینی سکریٹری وی سومناتھن ہیں جو حکومت کے پہرہ دار ہیں۔ ان دونوں نے مل کر ووٹ چوری بلکہ ڈکیتی کے ذریعہ کئی ریاستوں میں بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کی۔ گیانیش کمار کے بارے میں تو عوام نے بہت کچھ سنا ہوگا اور ووٹ چوری کے تلخ تجربہ سے گزرے ہوں گے لیکن انڈین ایکسپریس کی تحقیقاتی رپورٹ نے ووٹ ڈکیتی کے پس پردہ ملزم وی سومناتھن کو بے نقاب کیا جو گیانیش کمار کا تحفظ کرتے رہے۔ ہندوستانی جمہوریت کی خوبصورتی ، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات سے ہے لیکن گیانیش کمار نے الیکشن کو سلیکشن میں تبدیل کردیا۔ حکومتوں کا انتخاب عوام یعنی رائے دہندے کرتے ہیں لیکن گیانیش کمار اور سومناتھن نے کچھ ایسا سسٹم تیار کیا کہ حکومت طئے کرے گی کہ ملک کا رائے دہندہ کون ہوگا۔ کس کا نام فہرست میں شامل کیا جائے اور کس کا خارج کیا جائے، اس کا فیصلہ ریکارڈ اور دستاویز کی بنیاد پر نہیں بلکہ سافٹ ویر میں چھیڑ چھاڑ کے ذریعہ کیا جارہا تھا۔ ووٹ چوری کا سسٹم پکڑا گیا جو کہیں اور نہیں بلکہ الیکشن کمیشن میں چل رہا تھا۔ انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ کے ذریعہ ملک کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں طوفان دکھائی دے رہا ہے جبکہ عام آدمی حیرت اور برہمی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ جن پر بھروسہ کیا تھا وہی ڈاکو نکلا۔ اخبار کے انکشاف سے مودی حکومت اور بی جے پی پر سکتہ طاری ہے کیونکہ الیکشن کمیشن بری طرح پھنس چکا ہے۔ کانگریس قائد راہول گاندھی نے گزشتہ سال اگست میں ووٹ چوری کے خلاف باقاعدہ مہم چھیڑ دی اور ثبوت عوام کے روبرو پیش کیا۔ باوجود اس کے رائے دہندے نہیں جاگے اور گودی میڈیا کے بہکاوے اور گیانیش کمار کے دعوؤں کا شکار ہوتے رہے۔ بظاہر محسوس ہورہا تھا کہ گیانیش کمار اور ان کے ساتھی دو الیکشن کمشنران اس لوٹ میں برابر کے شریک تھے۔ اخبار کی رپورٹ سے یہ خلاصہ ہوا کہ جو ہر کسی کیلئے چونکا دینے والا تھا کیونکہ گیانیش کمار کے فیصلوں کے خلاف الیکشن کمشنرس سکھبیر سنگھ سندھو اور ویویک جوشی نے بارہا اعتراض جتایا لیکن مودی حکومت کی سرپرستی میں گیانیش کمار ایک ڈکٹیٹر کی طرح من مانی فیصلے نافذ کرتے رہے۔ دونوں الیکشن کمشنرس نے 10 ماہ میں 14 مرتبہ گیانیش کمار کے فیصلوں کی مخالفت کی اور فائل میں اپنا اعتراض درج کیا۔ ایک مرحلہ یہ بھی آیا کہ جب ایک دن میں 4 مرتبہ سندھو اور جوشی نے گیانیش کمار سے اختلاف کیا۔ دونوں نے SIR مہم کے ذریعہ ناموں کو حذف کرنے کے طریقہ کار کو غیر قانونی قرار دیا لیکن ان کی آواز الیکشن کمیشن کے در و دیوار سے ٹکراکر خاموش ہوگئی۔ کمیشن کی فائلوں میں درج دونوں الیکشن کمشنرس کا اختلافی نوٹ SIR کی شفافیت اور غیر جانبداری کو ختم کرنے کیلئے کافی ہے۔ اخبار نے رپورٹ کے ذریعہ جمہوریت کو لاحق خطرات کے بارے میں خطرہ کی گھنٹی بجادی ہے۔ رائے دہندوں کی تفصیلات پر مبنی سافٹ ویئر میں چھیڑ چھیڑا کی گئی اور نئے ناموں کی شمولیت کیلئے فارم 6 میں ایسے شرائط شامل کئے گئے جو غیر قانونی تھے۔ ان شرائط کا مقصد نئے نوجوانوں کو ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے روکنا ہے ۔ گیانیش کمار نے آئی ٹی ماہرین کی ٹیم کے ذریعہ سافٹ ویر میں چھیڑ چھاڑ کی اور لاکھوں نام ڈیلیٹ کردیئے گئے ۔ ووٹر لسٹ پر ڈاکہ زنی کا سب سے سنگین پہلو یہ ہے کہ اسمبلی حلقہ جات کے الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس کو الیکشن کمیشن کے پورٹل میں رسائی ختم کردی گئی ۔ طریقہ کار کے مطابق ناموں کی شمولیت یا اخراج کا اختیار ERO کو ہوتا ہے لیکن یہاں ERO کے سفارش کردہ ناموں کو شامل نہیں کیا گیا۔ مودی حکومت کے مخالفین کے نام چن چن کر ڈیلیٹ کردیئے گئے ۔ دونوں الیکشن کمشنرس خاموشی سے دھاندلیوں اور من مانی کو دیکھتے رہے۔ انہوں نے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کرایا اور نہ ہی استعفیٰ دے کر عوام کے درمیان ووٹ ڈکیتی کو بے نقاب کیا بلکہ فائلوں میں اپنا اعتراض درج کرتے رہے۔ ظاہر ہے کہ مودی حکومت میں یہی جرأت کا کام ہے کیونکہ کھل کر مخالفت کی صورت میں سی بی آئی ، ای ڈی ،انکم ٹیکس جیسے اداروں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ ووٹر لسٹ میں ڈکیتی کی کہانی کے اہم کردار وزیراعظم کے کابینی سکریٹری سومناتھن ہیں جو گیانیش کمار ساتھ جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ الیکشن کمشنرس نے غلط فیصلوں اور گیانیش کمارکی من مانی کے بارے میں سومناتھن کو کئی مکتوب روانہ کئے لیکن انہیں کیا پتہ تھا وہی ماسٹر مائینڈ ہیں۔ کابینی سکریٹری دراصل وزیراعظم کا دروا زہ ہی نہیں بلکہ حکومت کی آنکھ ، کان ، اور ناک کی طرح ہوتا ہے۔ سومناتھن کی ملازمت میں ایک سال کی توسیع کی گئی تاکہ ایس آئی آر کے ذریعہ ووٹ چوری کا عمل مکمل کیا جاسکے۔ جمہوریت کا بھلے ہی قتل ہوجائے لیکن کرسی مل جائے کافی ہے۔ گیانیش کمار اور سومناتھن ایس آئی آر سازش کے اہم کردار ہیں۔ ایک جمہوریت کا چوکیدار اور دوسرا حکومت کا پہرہ دار۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد چوکیدار چور ہے کہ نعرہ سیاسی حلقوں میں دوبارہ گونجنے لگا ہے۔
ملک کی 26 ریاستوں اور 4 مرکزی زیر انتظام علاقوں میں SIR مہم کے ذریعہ 13.37 کروڑ ناموں کو فہرست سے ڈیلیٹ کردیا گیا۔ نئی دہلی میں 37 فیصد رائے دہندوں کے نام حذف کردیئے گئے ۔ ایس آئی آر مہم کی شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایل کے اڈوانی ، وزیر خارجہ جئے شنکر ، چیف منسٹر دہلی ریکھا گپتا ، عام آدمی پارٹی قائدین اروند کجریوال ، منیش سیسوڈیا ، سابق چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، سابق چیف جسٹس بی آر گوائی ، نجیب جنگ ، سبرامنیم سوامی ، کپل سبل ، ابھیشک منو سنگھوی ، سابق نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکر ، سی بی آئی ڈائرکٹر پراوین سود اور موجودہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو کے نام فہرست میں شامل نہیں کئے گئے اور انہیں دستاویزات پیش کرنے کیلئے نوٹس جاری کی گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ووٹ چوری کی سازش منظر عام پر آنے کے بعد بہار ، مغربی بنگال ، ہریانہ ، مدھیہ پردیش اور دیگر ریاستوں کے انتخابات کو کالعدم کرتے ہوئے دوبارہ الیکشن کرائے جائیں۔ راہول گاندھی نے 7 اگست 2025 کو ووٹ چوری کے خلاف پہلی پریس کانفرنس کی تھی۔ انہوں نے کرناٹک اور مہاراشٹرا میں ووٹ چوری کے ثبوت عوام کے سامنے پیش کئے لیکن عوام کو گودی میڈیا کے ذریعہ یہ کہہ کر گمراہ کیا گیا کہ چند ایک غلطیوں کی بنیاد پر سارے سسٹم کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ راہول گاندھی نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا اور سافٹ ویر کنٹرول کا معاملہ سب سے پہلے انہوں نے منظر عام پر لایا تھا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سے راہول گاندھی کے تمام الزامات اور انکشافات درست ثابت ہوئے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملہ میں کیا موقف اختیار کرتا ہے جہاں ایس آئی آر مہم کے خلاف درخواستیں زیر التواء ہیں۔ گیانیش کمار کی برطرفی کے ذریعہ ان کے تمام فیصلوں کی جانچ ضروری ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے وندے ماترم کے مسئلہ پر ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے عوام کو راحت دی ہے۔ آزادی کے بعد سے ملک میں وندے ماترم کے ابتدائی دو حصوں کو پڑھنے کا رواج ہے لیکن مودی حکومت نے قانون سازی کے ذریعہ تمام 6 حصوں کا پڑھنا نہ صرف لازمی قرار دیا بلکہ نہ پڑھنے پر سزا کی گنجائش رکھی گئی ۔ سپریم کورٹ نے واضح کردیا کہ اگر کوئی شخص وندے ماترم گانے سے انکار کرے تو اسے سزا نہیں دی جاسکتی۔ عدالت نے 1986 کے فیصلہ کا حوالہ دیا جس میں قومی ترانہ نہ گانے پر سزا کی گنجائش کو ختم کیا گیا۔ مسلمانوں کا واضح موقف ہے کہ وندے ماترم کے آخری چار حصے شرعی اصولوں کے خلاف ہیں ، لہذا مسلمان اسے نہیں پڑھ سکتے۔ مودی حکومت ہندوتوا ایجنڈہ کو نافذ کرنے کے مقصد میں کس حد تک کامیاب ہوگی ، اس کا انحصار سپریم کورٹ کے قطعی فیصلہ پر رہے گا۔ انور جلال پوری نے کیا خوب کہا ہے ؎
کبھی پھولوں کبھی خاروں سے بچنا
سبھی مشکوک کرداروں سے بچنا