نئی دہلی: سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن ( سی بی آئی )نے جموں و کشمیر کے کیرو ہائیڈرو الیکٹرک پراجکٹ سے متعلق بدعنوانی کے معاملے میں جمعرات کی صبح دہلی میں سابق گورنر ستیہ پال ملک کی رہائش گاہ اور دفتر کی تلاشی لی۔ میڈیا کے مطابق مرکزی ایجنسی نے جموں و کشمیر میں دیگر 30 مقامات پر بھی دھاوے کئے۔رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ کشتواڑ میں دریائے چناب پر مجوزہ کیرو ہائیڈرو پاور پراجکٹ کے لیے 2019 میں 2200 کروڑ روپے کا سیول ورک کنٹریکٹ دینے میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق ہے۔(تفصیلی خبر اندرونی صفحہ پر)
ستیہ پال ملک نے الزام لگایا تھا کہ جب وہ ریاست کے گورنر تھے (اس وقت جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری نہیں بنا تھا) تو انہیں پراجکٹ سے متعلق دو فائلوں کو منظور کرنے کے لیے 300 کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔یاد رہے کہ وہ 23 اگست 2018 سے 30 اکتوبر 2019 تک جموں و کشمیر کے گورنر رہے۔ گزشتہ ماہ بھی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے اس معاملے میں جاری تحقیقات کے سلسلے میں دہلی اور جموں و کشمیر میں تقریباً 8 مقامات پر چھاپے مارے تھے۔سی بی آئی نے گزشتہ ماہ اپنے چھاپے میںتقریباً 21 لاکھ روپے سے زیادہ کی رقم کے علاوہ ڈیجیٹل آلات، کمپیوٹر، جائیداد کے دستاویزات برآمد کیے تھے۔ مرکزی ایجنسی نے چناب ویلی پاور پراجکٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سابق چیئرمین نوین کمار چودھری، سابق عہدیداروں ایم ایس بابو، ایم کے متل اور ارون کمار مشرا اور پٹیل انجینئرنگ لمیٹڈ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ چودھری جموں اور کشمیر کیڈر (اب اے جی ایم یو ٹی کیڈر) کے 1994 بیچ کے آئی اے ایس افسر ہیں۔