ہریش راؤ کی خصوصی مساعی، اقلیتی طلبہ کیلئے اسٹڈی سرکل کے قیام کی تجویز
حیدرآباد۔29 ۔ جولائی (سیاست نیوز) اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے معاملہ میں حیدرآباد کے بعد اگر کسی ضلع میں سرکاری سطح پر سرگرمیاں دیکھی جاسکتی ہیں تو وہ سدی پیٹ ہے، جہاں سابق وزیر ہریش راؤ کی خصوصی دلچسپی سے اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی کے لئے ٹھوس قدم اٹھائے گئے۔ حیدرآباد میں حج ہاؤز اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے لیکن ہریش راؤ نے سدی پیٹ میں انتہائی عصری سہولتوں کے ساتھ نیا حج ہاؤز تعمیر کرتے ہوئے اسے اقلیتوں کے تعلیمی و معاشی ترقی کے مرکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ۔ 3 کروڑ 25 لاکھ روپئے سے انتہائی خوبصورت عمارت تعمیر کی گئی جو حیدرآباد کے بعد کسی بھی ضلع میں پہلا حج ہاؤز ہے۔ ہریش راؤ نے حج ہاؤز کی تعمیر کو بطور چیلنج قبول کرتے ہوئے مقامی مسلمانوں کی ضرورتوں کا لحاظ کرتے ہوئے عوامی نمائندوں سے بجٹ حاصل کیا۔ صدر نشین وقف بورڈ محمد سلیم نے اپنے ایم ایل سی فنڈ سے دو کروڑ روپئے حج ہاؤز کی تعمیر کیلئے مختص کئے۔ ان کے علاوہ ایک اور رکن پارلیمنٹ نے ایک کروڑ روپئے مختص کئے۔ اس طرح حج ہاؤز کی تعمیر میں محمد سلیم نے گرانقدر حصہ ادا کیا جس کا اعتراف افتتاحی تقریب میں خود ہریش راؤ نے کیا۔ ہریش راؤ نے دو کروڑ روپئے مختص کرنے پر محمد سلیم سے اظہار تشکر کیا اور ان کے اس جذبہ کی ستائش کی۔ محمد سلیم نے رکن قانون ساز کونسل کی حیثیت سے نہ صرف سدی پیٹ بلکہ حیدرآباد اور ریاست کے دیگر علاقوں میں ترقیاتی فنڈ الاٹ کیا ہے۔ سدی پیٹ کے حج ہاؤز کو مسلمانوں کے تعلیمی مرکز میں تبدیل کرنے کی تجویز ہے جہاں اقلیتی طلبہ کو پیشہ ورانہ کورسس کی تربیت دی جائے گی۔ حیدرآباد کی طرح سدی پیٹ میں میناریٹیز اسٹڈی سرکل کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے جہاں طلبہ کو سیول سرویس اور دیگر امتحانات کی تیاری کے سلسلہ میں کوچنگ فراہم کی جائے گی۔ محمد سلیم نے ایم ایل سی ترقیاتی فنڈ کے علاوہ وقف بورڈ کی آمدنی کو مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی پر خرچ کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ ان کے دور میں وقف بورڈ کی آمدنی میں قابل لحاظ اضافہ ہوا اور وہ اس آمدنی سے تعلیمی ادارے اور ہاسپٹل قائم کرنے کی تجویز رکھتے ہیں۔ سدی پیٹ کا عالیشان حج ہاؤز دیگر اضلاع کے لئے مثالی ہے۔ ہر ضلع میں حج ہاؤز تعمیر کرنے کی تجویز حکومت کے زیر غور ہے اور مقامی عوامی نمائندوں نے اقلیتوں سے اس کا وعدہ کیا ہے۔ سدی پیٹ کے حج ہاؤز کی تعمیر کے ذریعہ دیگر اضلاع میں عوامی نمائندوں کو یہ رہنمائی دی گئی کہ وہ بھی اپنے ترقیاتی فنڈس کا بہتر طور پر استعمال کرتے ہوئے حج ہاؤز تعمیر کرسکتے ہیں۔ حج ہاؤز کی عمارت اقلیتوں سے متعلق تمام دفاتر کا مرکز ہوگی اور اس عمارت میں مختلف کوچنگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ سدی پیٹ کے مقامی مسلمانوں نے حج ہاؤز کی تعمیر میں دو کروڑ روپئے الاٹ کرنے پر محمد سلیم سے اظہار تشکر کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ عمارت مسلمانوں کی ہمہ جہتی ترقی میں مددگار ثابت ہوگی۔ سدی پیٹ کے دیگر عوامی نمائندوں اور مسلم تنظیموں نے بھی محمد سلیم سے اظہار تشکر کیا۔