بنگال اور دیگر مقامات پر خریداری ۔ بنگلہ دیش ‘ پاکستان ‘ نیپال اور تھائی لینڈ میں فروخت عروج پر
حیدرآباد 18 اگسٹ ( سیاست نیوز) اسمگلنگ اب کرنسی ‘ سونا ‘ نوادرات یا قیمتی اشیاء کی نہیں بلکہ سرقہ کردہ موبائیل بھی اسمگلنگ کے ذریعہ دنیا کے دیگر ممالک میں پہنچ رہا ہے تاکہ اس موبائیل تک پولیس کی رسائی نہ ہوسکے۔ مغربی بنگال کے علاوہ دیگرشہر چوری کے موبائیل کی فروخت کے مراکز میں تبدیل ہونے لگے ہیں جہاں سے یہ موبائیل دنیا کے مختلف ممالک بالخصوص بنگلہ دیش‘ پاکستان‘ تھائی لینڈ وغیرہ پہنچائے جارہے ہیں ۔ ہندستان میں چوری کردہ موبائیل کو پولیس کی جانب سے ٹریس کرنے کی کوششوں میں انکشاف ہوا کہ چوری کردہ موبائیل فون تھائی لینڈ ‘ نیپال اور بنگلہ دیش میں استعمال ہورہے ہیں۔ قیمتی موبائیل فون جو بازار میں آتے ہی آسٹریلیاء‘امریکہ ‘ کینیڈا‘ لندن سے ہندستان پہنچتے تھے جو کہ موبائیل فون کی ہندستان اسمگلنگ میں شمار کیا جاتا تھا لیکن اب ہندستان کے مختلف شہروں سے چوری کردہ موبائیل فون ممبئی ‘ مغربی بنگال ‘ کولکتہ اور دیگر علاقوں میں پہنچ رہے ہیں جہاں سے چوری کے موبائیل فروخت کئے جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان شہرو ںمیں جہاں چوری کے موبائیل فون اکٹھا کئے جا رہے ہیں ان موبائیل فونس کو خریدنے کے لئے تھائی لینڈ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے تاجرین ہندستان پہنچ رہے ہیں اور ان موبائیل فونس کو عالمی بازار میں سیکنڈ ہینڈ موبائیل کے طور پر فروخت کررہے ہیں ۔شہری علاقوں سے چوری کئے جانے والے موبائیل فون سارقین کی گینگ کے متعلق خفیہ ایجنسیوں کا کہناہے کہ وہ اس بات سے واقف نہیں ہوتے کہ وہ جو موبائیل چوری کر رہے ہیں وہ کہاں فروخت ہوگا بلکہ ان سارقین سے بڑی تعداد میں موبائیل فون خریدنے والوں کا ایک گروہ ہے جو ملک کے مختلف شہروں میں سرگرم ہے اور ان گروہ کے افراد کی جانب سے بیرونی ممالک کو یہ فون روانہ کئے جانے لگے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ نیپال ‘ بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کے ذریعہ ہندستان میں چوری کئے جانے والے موبائیل فونس دنیا کے کئی ممالک میں سیکنڈ ہینڈ فون کے طور پر فروخت کئے جانے لگے ہیں جس کی وجہ سے ان فونس کی دستیابی مشکل نہیں بلکہ بسا اوقات ناممکن ہونے لگی ہے۔م