سرمائی سیشن میں ہجومی تشدد قانون پر جواب کی تیاری

   

نئی دہلی ۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہجومی تشدد پر قانون بنانے، دہشت گردی سرگرمیوں کو روکنے ڈرونس کا استعمال اور خواتین کے خلاف جرائم اور کمسن لڑکیوں پر تشدد کے جرائم کو روکنے پر قانون سازی کی جارہی ہے۔ وزارت داخلہ نے 6 سوالات پر مشتمل فہرست تیار کی جس کا جواب پارلیمنٹ کے آئندہ ہفتہ پیر سے شروع ہونے والے سرمائی سیشن میں دیا جائے گا۔ وزارت داخلہ نے دائیں بازو انتہاء پسندوں سے متعلق مسائل پر بھی جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آندھراپردیش ری آرگنائزیشن قانون 2014ء اور بارش اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا بھی جواب دیا جائے گا۔ مملکتی وزیرداخلہ نتیانند رائے لوک سبھا میں جواب دیں گے کہ آیا ہجومی تشدد کے خلاف نیاقانون بنانا ضروری ہے یا موجودہ قوانین ہی کافی ہیں۔ سرمائی سیشن کے دوسرے دن تعزیرات ہند کی دفعات میں کسی قسم کی ترمیمات کا بھی جائزہ لیا جائے گا تاکہ ہجومی تشدد کو روکا جاسکے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے راجستھان تحفظ لنچنگ بل 2019ء کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ اس بل کو ریاستی اسمبلی میں 5 اگست کو منظور کیا گیا ہے۔ ہجومی تشدد کے ماخوذ افراد پر 5 لاکھ کا جرمانہ اور عمر قید کی سزاء دی گئی ہے۔ ملک میں مختلف مقامات پر ہجومی تشدد کے واقعات میں زائد از 20 افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔