سرکاری اسکولوں میں بچت ، مصنوعی ذہانت ، کوڈنگ اور سائبر فراڈ کی تعلیم

   

محکمہ تعلیم کا فیصلہ ، تلنگانہ کی تجاویز کو مرکزحکومت کی منظوری ، 63 ٹیچرس کو تربیت کیلئے 9.45 کروڑ روپئے مختص
حیدرآباد۔ 26 مئی (سیاست نیوز) محکمہ تعلیم نے بدلتے ہوئے حالات کے لحاظ سے اسکولی طلبہ میں نئے رجحان کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ نئے تعلیمی سال کے آغاز سے معاشیات، مصنوعی ذہانت اور کوڈنگ کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی حکومت کی تجاویز کو مرکزی وزارت تعلیم کے تحت خدمات انجام دینے والے جامع تعلیم پراجیکٹ اپروول بورڈ نے قبول کرلیا ہے جس کے بعد تلنگانہ حکومت نے ریاست کے 6,283 اپرپرائمری اور ہائی اسکول کے طلبہ کو ’’بچت‘‘ کے بارے میں شعور بیدار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 3,142 اسکولس میں مصنوعی ذہانت، کوڈنگ اور سائبر فراڈ سے کیسے بچا جاسکتا ہے، اس کی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک اسکول کو بچت کے بارے میں طلبہ کو سمجھانے کیلئے 1,000 روپئے اور مصنوعی ذہانت وکوڈنگ کیلئے 10,000 روپئے مختص کئے جائیں گے۔ اس مرتبہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے جامع تعلیمی پراجیکٹ کیلئے 1,487.76 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں جس میں مرکز کی حصہ داری 60% اور ریاست کی 40% شراکت ہوگی۔ مصنوعی ذہانت کی تعلیم دینے کیلئے 63,030 ٹیچرس کو تربیت فراہم کرنے کیلئے 9.45 کروڑ روپئے مقرر کئے گئے ہیں۔ 50 اسکولس میں تیسری تا پانچویں جماعت کے طلبہ کو انگریزی سکھانے کیلئے ایک اسکول کو 5 ہزار روپئے کے حساب سے جملہ 2.5 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔ لڑکیوں کو خودحفاظتی تربیت کیلئے ’’رانی لکشمی بائی آتما رکھشنا پریسکشنا‘‘ اسکیم کے تحت 89.10 لاکھ روپئے مختص کئے گئے۔ اس اسکیم کے تحت 594 اسکولس میں 3 ماہ کی تربیت دی جائے گی۔ 2,988 خصوصی ضروریات والے طلبہ کوگھروں کے پاس ہی تعلیم دینے کیلئے 17.92 لاکھ روپئے ، 4,346 طلبہ کو گھروں سے بھویتا مراکز کو منتقل کرنے کیلئے اسکاٹ الاؤنس کے تحت 2.17 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ 1,954 اسکولس کو سائنس کٹ کی سربراہی کیلئے 2.54 کروڑ روپئے خرچ کئے جارہے ہیں۔ 602 منڈل ہیڈکوارٹرس پر کمپیوٹر لیابس کے قیام کیلئے 14.44 کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔ پہلی تا آٹھویں جماعت سماگر سکھشا کے تحت مرکزی حکومت فنڈس جاری کررہی ہے۔ ریاست کے 21,010 کامپوزٹ اسکول گرانٹس کے تحت 43.93 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔2