سرکاری اسکولوں میں سمیت غذا کے واقعات پر تلنگانہ ہائی کورٹ کی برہمی

,

   

عہدیدار خواب غفلت میں کیوں، پیر تک حکومت کو رپورٹ پیش کرنے چیف جسٹس الوک ارادھے کی ہدایت،حکومت بھی سختی سے نوٹ لے

حیدرآباد۔/27 نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست کے سرکاری اسکولوں میں سمیت غذا سے طلبہ کے متاثر ہونے کے واقعات میں اضافہ پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عہدیداروں پر برہمی کا اظہار کیا۔ نارائن پیٹ ضلع کے ماگنور ضلع پریشد ہائی اسکول میں ناقص غذا کی سربراہی سے طلبہ کے متاثر ہونے کے واقعہ پر چیف جسٹس الوک ارادھے کی زیر قیادت بنچ نے برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے سوال کیا کہ سرکاری اسکولوں میں سمیت غذا کے واقعات میں اضافہ پر کیا عہدیدار سورہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسکولوں میں فوڈ پوائزن کے واقعات تشویش کا باعث ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں دوپہر کے کھانے کی سربراہی میں ناقص غذا کی سربراہی کے معاملات پر مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست گذار کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ سی ایچ پربھاکر نے عدالت کو حالیہ عرصہ میں پیش آئے واقعات کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ عدالت نے سوال کیا کہ ہفتہ میں تین مرتبہ ناقص غذا کی سربراہی پر عہدیدار کیا کررہے ہیں۔ کیا طلبہ کے فوت ہونے کے بعد ہی عہدیدار خواب غفلت سے جاگیں گے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ ناقص غذا کی سربراہی کے واقعات دراصل عہدیداروں کے تساہل اور لاپرواہی کا ثبوت ہے۔ اس معاملہ پر حکومت کے رویہ کو بھی نشانہ بناتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے بھی اس معاملہ کا سنگین نوٹ نہیں لیا ہے۔ سرکاری وکیل نے اندرون ایک ہفتہ جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی بات کہی جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ ضلع ہیڈ کوارٹرس پر رہنے والے عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کرنے کیلئے حکومت ایک ہفتہ کا وقت چاہتی ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے بعد ہی عہدیدار کام کرتے ہیں انہیں بھی تو بچے ہوں گے۔ عہدیداروں کو انسانیت کی بنیاد پر کام کرنا چاہیئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ غیر ضمانتی وارنٹ جاری کرنے پر عہدیدار 5 منٹ میں عدالت میں پیش ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے حکومت کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے آئندہ سماعت پیر کو مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ ماگنور ضلع پریشد ہائی اسکول میں گذشتہ دنوں دوپہر کے کھانے کے بعد 50 طلبہ کی صحت بگڑ گئی انہیں ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا تھا۔ اس واقعہ کے چند دن بعد ہی دوبارہ اسی اسکول میں 29 طلبہ منگل کے دن دوپہر کے کھانے کے بعد متاثر ہوگئے اور انہیں مقامی پرائمری ہیلت سنٹر منتقل کرتے ہوئے علاج کیا جارہا ہے ان میں سے 22 کو مکتھل سرکاری ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سرکاری اسکولوں میں ناقص غذا کی سربراہی پر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ درخواست گذار کے وکیل نے شکایت کی کہ بیشتر سرکاری اسکولوں میں ناقص غذا کی سربراہی کی شکایات عام ہیں۔ ایک ہفتہ میں دو مرتبہ ایک اسکول کے طلبہ کا متاثر ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔ چیف جسٹس الوک ارادھے نے کہا کہ طلبہ کی زندگی کے ساتھ اس طرح کا رویہ ناقابل قبول ہے۔ حکومت کو بھی اس معاملہ کا سختی سے نوٹ لینا چاہیئے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو طلبہ کو سربراہ کی گئی غذا کی تفصیلات پیش کی اور کہا کہ خاطی عہدیداروں کے خلاف حکومت کارروائی کرے گی۔ جس پر چیف جسٹس نے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس نے ماگنور اور کریم نگر کے بروگوپلی میں پیش آئے واقعات پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے غذا کے سیمپل جانچ کیلئے لیاب کو روانہ کرنے کی ہدایت دی۔ عدالت نے کہا کہ پیر تک حکومت کو رپورٹ پیش کرنی چاہیئے۔1