سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم کو کارپوریٹ سطح پر پہنچانے کی ضرورت:چیف منسٹر ریونت ریڈی

   

1292 جونیر لکچررس اور 240 پالی ٹیکنک لکچررس کو احکامات تقرر حوالے کئے

حیدرآباد۔/12 مارچ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج رویندرا بھارتی میں منعقدہ تقریب میں 1292 جونیر لکچررس اور 240 پالی ٹیکنک لکچررس کو احکامات تقرر حوالے کئے۔ اس موقع پر وزیر بہبودی پسماندہ طبقات پونم پربھاکر، حکومت کے مشیر ڈاکٹر کیشو راؤ، میئر حیدرآباد وجیہ لکشمی اور دوسرے موجود تھے۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے منتخب جونیر لکچررس اور پالی ٹیکنک لکچررس کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ علحدہ تلنگانہ کے حصول میں بیروزگار نوجوانوں کا رول ناقابل فراموش ہے۔ سابق بی آر ایس حکومت نے بیروزگار نوجوانوں کے مسائل کے حل پر کوئی توجہ نہیں دی۔ کانگریس زیر قیادت عوامی حکومت کے قیام کے بعد تلنگانہ میں تقررات کا عمل شروع کیا گیا۔ روزگار کی امید میں نوجوانوں کے 12 قیمتی سال سابق حکومت کی بے حسی کے نتیجہ میں ضائع ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے اقتدار کے پہلے سال 55163 جائیدادوں پر تقررات کئے ہیں۔ حکومت نے بیروزگاری کے مسئلہ کو مستقل طور پر حل کرنے کیلئے مساعی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا مستقبل اسکولوں کے کلاس رومس میں محدود ہے، ملک کی معاشی ترقی تعلیم سے مربوط ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت اساتذہ کے تبادلے اور انہیں ترقی دینے کے اقدامات کررہی ہے جو گذشتہ کئی برسوں سے زیر التواء تھے۔ انہوں نے معیار تعلیم کے گھٹ جانے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نئے تقرر کردہ ٹیچنگ اسٹاف کو معیار تعلیم بہتر بنانے میں اہم رول ادا کرنا چاہیئے۔ سرکاری اسکولوں میں ہر سال داخلوں میں کمی اور خانگی اسکولوں میں اضافہ کا رجحان ہے۔ انہوں نے ٹیچنگ اسٹاف سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے کام کرے ۔ حکومت سرکاری اسکولوں کے طلبہ پر جو خرچ کررہی ہے وہ مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔ سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں کمی پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ معیار تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے حکومت نے 55 ینگ انڈیا انٹیگریٹیڈ اسکولوں کی تعمیر کیلئے 11000 کروڑ مختص کئے ہیں۔ ینگ انڈیا اسکل یونیورسٹی قائم کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے کرکٹر سراج‘ باکسنگ چمپین نکہت زرین اور دیگر کا حوالہ دیا جنہیں حکومت نے عہدہ اور اعزاز دیا ہے۔چیف منسٹر نے حکومت پر تنقید کرنے والوں کی مذمت کی۔1

سرکاری ملازمت کے علاوہ دیپتی جیوانجی کو پیرا اولمپکس میں بہتر مظاہرہ پر اراضی الاٹ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بعض قائدین کانگریس حکومت کو اسٹریچر سے تعبیر کررہے ہیں جبکہ اس طرح کے ریمارکس کرنے والے خود آج اسٹریچر پر ہیں۔ کانگریس حکومت کو ہر ماہ سابق بی آر ایس حکومت کے حاصل کردہ قرض کے سود کے طور پر 6500 کروڑ ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر خاندان حکومت کے خلاف الزام تراشی میں مصروف ہے اور وہ فیملی پیاکیج کی طرح حکومت پر تنقیدیں کررہے ہیں، میں جھوٹ کی بنیاد پر حکومت نہیں چلاؤں گا بلکہ عوام کو ترقی اور فلاح و بہبود کے ثمرات سے واقف رکھوں گا۔1