سرکاری انتظامیہ اور عوامی خدمات کیلئے AI ٹکنالوجی استعمال کرنے حکومت کا منصوبہ

   

گوگل اور مائیکرو سافٹ سے معاہدہ کا فیصلہ ، چیف سیکریٹری نے رپورٹ طلب کی
حیدرآباد۔ 17 فروری (سیاست نیوز) حکومت ، تلنگانہ میں سرکاری انتظامیہ اور عوامی خدمات میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence-AI) کا استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ مستقبل مصنوعی ذہانت کا ہے۔ اس سمت حکومت کی جانب سے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے AI کا استعمال کرنے کیلئے گوگل اور مائیکرو سافٹ جیسی مختلف عالمی کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری محکموں میں اس بات کو یقینی بنانے کیلئے فعال کوشش شروع کردی ہے۔ وہ اس ٹکنالوجی میں پیچھے رہنا نہیں چاہتی۔ منصوبہ یہ ہے کہ سرکاری کمپیوٹرس پر نجی ملکیت والے AI Apps اور دیگر Tools استعمال کرنے کے بجائے صرف حکومت کے ساتھ شراکت میں تیار کردہ ایپس اور ٹولس کو استعمال کیا جائے۔ ابتدائی طور پر اسے چند محکموں میں پائیلٹ پراجکٹ کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس مقصد کیلئے ملازمین کو تربیت دی جائے گی، ساتھ ہی نوڈل آفیسر کا بھی تقرر کیا جائے گا۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف سیکریٹری شانتی کماری نے سرکاری محکموں کو کس ایپ کی ضرورت ہے، اس کی رپورٹ طلب کی ہے۔ حکومت ، ہیلتھ ، ایجوکیشن، اگریکلچر، ٹرانسپورٹ، فاریسٹ اور پولیس ڈپارٹمنٹ میں مصنوعی ذہانت کو وسیع پیمانے پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ محکمہ تعلیم میں سرکاری اسکولوں میں ٹیچنگ کیلئے اے آئی کو دستیاب کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس شعبہ میں طلباء و طالبات کی دلچسپی بڑھانے کیلئے اسکولس میں AI ٹولس اور سافٹ ویر کی بنیادی تربیت دی جائے گی۔ محکمہ پولیس میں جرائم کی روک تھام ، مجرموں کی شناخت، ٹریفک کنٹرول اور مقدمات کو جلد حل کرنے کیلئے اے آئی کا استعمال کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ تلنگانہ اینٹی نارکوٹکس بیورو نے پہلے ہی اے آئی پر مبنی ایپ تیار کرلیا ہے جس کا نام ’’دی میترا‘‘ ہے۔ ریاستی حکومت ، شہری خدمات کیلئے ٹی ایپ، ٹریفک، رئیل ٹائم ڈیٹا کے ساتھ ٹریفک مینجمنٹ، زراعت میں مٹی کے ٹسٹ کی بنیاد پر پودوں لگانے کیلئے موزوں فصلیں، موسم کی تازہ صورتحال ، نئی اقسام کی پیداوار، فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں پر قابو پانے کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی کو دستیاب کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ 2