حیدرآباد۔12۔ جنوری (سیاست نیوز) آندھراپردیش ہائی کورٹ نے ناگر کرنول ضلع میں حاملہ خاتون کو سرکاری دواخانوں میں موثر علاج کی فراہمی میں ناکامی پر حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ چیف جسٹس اجل بھویاں اور جسٹس این تکا رام پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے اخبارات میں شائع شدہ خبروں کو مفاد عامہ کی درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کی۔ واضح رہے کہ ناگر کرنول ضلع میں ایک حاملہ خاتون کو علاج کیلئے پانچ سرکاری دواخانوں میں کوئی توجہ نہیں دی گئی اور آخر کار حاملہ خاتون اور اس کے بچے کی موت واقع ہوگئی۔ دو ہفتہ قبل پیش آئے واقعہ پر چیف جسٹس نے کارروائی کرتے ہوئے پرنسپل سکریٹری محکمہ صحت ، کمشنر میڈیکل اینڈ ہیلت ، کمشنر تلنگانہ ویدیا ودھان پریشد ، ڈائرکٹر پبلک ہیلت اور تین اضلاع کے گورنمنٹ ہاسپٹلس کے سپرنٹنڈنٹس کو نوٹس جاری کی ہے۔ حکومت اور محکمہ جات کو اندرون 8 ہفتے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی تاکہ اس بات کی وضاحت کی جائے کہ ریاست کے سرکاری دواخانوں میں علاج کی صورتحال بہتر کیوں نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے اس معاملہ کی آئندہ سماعت 28 مارچ کو مقرر کی ہے۔ر