چیف منسٹر کی چیف سکریٹری کو ہدایت، متعلقہ سکریٹریز کو فائیلوں کے تحفظ کا ذمہ دارقراردیاگیا، گمشدگی پر کارروائی کی دھمکی
حیدرآباد۔/17 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی مختلف محکمہ جات میں فائیلوں کے گم ہوجانے اور فائیلوں کو نقصان جیسے معاملات کا حکومت نے سختی سے نوٹ لیا ہے۔ محکمہ انیمل ہسبینڈری میں اہم فائیلوں کے غائب ہونے پر پولیس میں مقدمہ درج کرتے ہوئے عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کی جارہی ہیں۔ محکمہ سیاحت کے دفتر میں آگ لگنے کے واقعہ کا بھی حکومت نے نوٹ لیا ہے جس میں کئی اہم ریکارڈس کے خاکستر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تمام محکمہ جات کے ریکارڈس اور فائیلوں کے تحفظ کے سلسلہ میں چیف سکریٹری شانتی کماری کو ہدایت دی ہے۔ چیف سکریٹری نے تمام محکمہ جات کے سکریٹریز کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنے محکمہ کی تمام فائیلوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور ذیلی شعبہ جات سے فائیلوں کو اپنی تحویل میں لے لیں۔ چیف سکریٹری نے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹس کو پابند کیا ہے کہ دفاتر اور خاص طور پر سب آرڈینیٹ دفاتر میں کام کے اوقات کے بعد کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ سابقہ حکومت کے بعض عہدیداروں نے تحقیقات اور کارروائیوں سے بچنے کیلئے متنازعہ فائیلوں کو غائب کرنے کی کوشش کی۔ سابق وزیر سرینواس یادو کے سابق او ایس ڈی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا جو ڈیوٹی کے وقت کے بعد دفتر میں فائیلوں کے ساتھ پائے گئے۔ حکومت نے کہا ہے کہ محکمہ جات کے سیکشن آفیسرس اور سرکولیٹنگ آفیسرس کو فائیلوں کے غائب ہونے پر ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔ چیف سکریٹری نے کہا کہ اگر فائیل یا پھر کمپیوٹر میں ڈیٹا غائب پایا گیا تو متعلقہ عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ چیف سکریٹری شانتی کماری نے دیگر محکمہ جات کے پرنسپل سکریٹریز اور سکریٹریز کو رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے ہر سیکشن کی فائیل کی حفاظت کرنے کا مشورہ دیا۔ کسی بھی محکمہ سے فائیلوں کو باہر لے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ چیف سکریٹری نے کہا ہے کہ 2014 سے آج تک کی تمام فائیلوں کا ریکارڈ درج کیا جائے اور انہیں محفوظ کیا جائے۔ چیف سکریٹری نے شخصی طور پر ہر محکمہ میں اہم اور حساس فائیلوں کے تحفظ کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صورت میں خاطی عہدیداروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی محکمہ جات میں سابق حکومت کے عہدیداروں نے ریکارڈ میں تحریف کرتے ہوئے اپنی خامیوں کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب نئی حکومت کو سرکاری محکمہ جات کی فائیلوں کے تحفظ پر توجہ مبذول کرنی پڑی ہے۔