بھاگلپور ۔ ان دنوں بہار کے بھاگلپور ضلع کے ایک سرکاری اسکول کے ایک استاد کھانے کی ترسیل (فوڈ ڈیلیوری) کا کام کر رہے ہیں۔ استاد دن بھرکلاس میں بچوں کو پڑھاتے ہیں ۔ اس کے بعد ہی وہ اسکول سے نکلتے ہی ڈیلیوری بوائے بن جاتے ہے۔ استاد نے کہا ہے کہ استاد کی تنخواہ اتنی کم ہے کہ وہ ڈیلیوری بوائے کے طور پرکام کرنے پر مجبور ہے۔ تنخواہ اتنی کم ہے کہ وہ خاندان کی پرورش سے کرپاتی ہے۔ فوڈ ڈیلیوری بوائے بننے کی کہانی بہارکے بھاگلپور ضلع کے ایک سرکاری فزیکل ٹیچر امیت کی ہے۔ ٹیچر امیت کو ایک سرکاری اسکول میں صرف8 ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے اور ٹیچر اتنی رقم سے شادی شدہ زندگی گزارنے میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں ہے۔ وہ یہ کام پچھلے 4 ماہ سے کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا استاد ہونے کے باوجود اتنا بے بس ہو سکتا ہے؟ ٹیچر امیت نے کہا ہے کہ طویل انتظار کے بعد 2022 میں سرکاری نوکری مل گئی۔ اہل خانہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ امیت نے بتایا کہ میں نے 2019 میں امتحان دیا تھا۔ نتیجہ فروری 2020 میں آیا اور میں منتخب ہوگیا۔ 100 میں سے 74 نمبر ملے۔ ڈھائی سال کے بعد مجھے سرکاری نوکری ملی، لیکن تنخواہ صرف 8 ہزار روپے تھی۔ اس نوکری کو پارٹ ٹائم قرار دیاگیا ۔ لیکن ڈھائی سال گزرنے کے باوجود حکومت نے ہماری تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا اور نہ ہی حکومت اہلیت کے ٹسٹ کروا رہی ہے۔ ایسے میں ہماری زندگیاں مشکل میں ہیں۔ اسکول میں پرانے اساتذہ کو 42 ہزار روپے تنخواہ مل رہی ہے۔ لیکن ہماری تنخواہ صرف 8 ہزار روپے ہے۔