کولمبو : سری لنکا کو 2009 میں ختم ہونے والی تمل علیحدگی پسند جنگ کے متاثرین کا پتہ لگانے کے لیے ایک قابل اعتبار طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت ہے ۔یہ باتیں سری لنکا کے وزیر خارجہ علی صابری نے کہی ہیں۔ انہوں نے جنیوا میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں سری لنکا کی شکست کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا اپنے باشندوں کے انسانی حقوق کو مضبوط بنانے اور ان کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب شمال میں جنگ کے متاثرین کی بات آتی ہے تو ہمیں آئین کے فریم ورک کے اندر سچائی تلاش کرنے کا ایک قابل اعتبار طریقہ کار قائم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماڈل میکنزم جنگ سے متاثرہ خاندانوں اور لاپتہ افراد کے خاندانوں کو امداد فراہم کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جنگی ہیروز کے مقدمات کے منصفانہ ٹرائل کے لیے ایک پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ آپ تمام جنگی ہیروز کو ایک ہی لائن میں نہیں ڈال سکتے ۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ شواہد کیسے اکٹھے کیے جاتے ہیں اور تحقیقات میں استعمال کیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس سلسلے میں جلد ہی ایک مقامی طریقہ کار تیار کرنا چاہیے جو بین الاقوامی برادری کے لیے قابل قبول ہو۔انہوں نے کہا کہ “ہم یواین ایچ آر سی کے اگلے اجلاس میں جو کچھ دکھانے جا رہے ہیں وہ واضح ہونا چاہیے ورنہ ہم مزید ووٹوں سے محروم ہو جائیں گے اور اس سے سری لنکا کے احتساب اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں کے تحت ذمہ داریوں کے حوالے سے ملک کی ساکھ پر دور رس منفی اثرات مرتب ہوں گے ۔ “