برسلز۔ 18 ستمبر (ایجنسیز) یورپی یونین نے جمعرات کے روز سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ یورپی یونین نے مکہ معظمہ پر بھی حالیہ حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ اس مذمت کی وجہ مکہ کا مسلمانوں کے مقدس شہر ہونا بتایا گیا ہے جو یورپی یونین کو کسی بھی طرح قبول نہیں ہے۔یورپی یونین نے سعودی عرب کے ساتھ بھر پور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا سعودی عرب میں شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جانا قابل قبول نہیں ہے۔ یورپی یونین کی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا سعودی عرب پر یہ حملے مسائل کے غیر فوجی حل کی کوششوں کو کمزور کرنے والے ہیں۔ اس سے یمن اور علاقہ میں علاقائی سلامتی کا معاملہ مزید کمزور ہو گا۔یاد رہے امریکہ جس نے مارچ 2025 میں حوثیوں کو دہشت گرد قرار دیا تھا اس کے اومان میں سفیر نے حوثی رہنماؤں سے مسقط میں مذاکرات کیے ہیں۔ دونوں طرف سے اچھے خیالات کا اظہار کیا گیا حتیٰ کہ ذرائع کے مطابق حوثیوں نے امریکی سفیر کو بتایا کہ وہ امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔یورپی یونین کی طرف سے مذمتی بیان میں کہا گیا ہیکہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کو اپنے تمام تر حملے فوری روک دینے چاہییں۔ یورپی یونین نے اس موقع پر یمنی عوام کیلئے بھی اپنی حمایت کا اظہار کیا اور کہا یورپی براداری اقوام متحدہ کے ساتھ اس سلسلے میں مل کر کام کرتی رہے گی۔
نیز اپنے علاقہ میں شراکت داروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری کے ساتھ بھی ایک جامع حل کیلئے تعاون جاری رکھے گی۔