واشنگٹن : امریکی محکمہ دفاع پینٹگان نے کہا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے 290 ارب ڈالر کی مالیت کے معاہدے میں 3 ہزار گائیڈڈ ہتھیاروں کی سعودی عرب کو ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔واضح رہے کہ یہ فروخت امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عہدے پر رہنے کی میعاد کے آخری دنوں میں سامنے آئی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب نو منتخب صدر جو بائیڈن نے امریکی ہتھیاروں کے مشرق وسطی کے سب سے بڑے خریدار ریاض پر یمن میں جنگ، جو دنیا کے بدترین انسانی بحران کا باعث ہے، کے خاتمے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت روکنے کا وعدہ کیا ہے۔پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس پیکیج میں 3 ہزار جی بی یو 39 اسمال ڈائیمیٹر بم (ایس ڈی بی آئیی 1) اسلحہ، کنٹینرز، معاون اشیا، اسپیئرز اور تکنیکی مدد شامل ہوگی۔اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ‘اس مجوزہ فروخت سے سعودی عرب کی طویل فاصلے تک، فضا سے زمین ہدف بنانے والے اسلحے کے ذخیرے میں اضافہ اور موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں بہتری آئے گی’۔بیان میں بتایا گیا کہ ‘ایس ڈی بی 1 کے سائز اور درست ہدف پر نشانہ لگانے کی صلاحیت سے جنگ کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے’۔پینٹاگون کی دفاعی سلامتی تعاون ایجنسی نے کانگریس کو ممکنہ فروخت سے متعلق معلومات ہم پہنچائی ۔یمن میں عام شہریوں کی مسلسل ہلاکتوں پر کانگریس کے ارکان نے غم و غصے کا شکار ہیں جنہوں نے رواں سال کے آغاز میں ریاض کو ایف 35 جنگی طیاروں کی فروخت روکنے کی کوشش بھی کی تھی تاہم وہ اس میں ناکام رہے تھے۔واضح رہے کہ امریکی وزارت خارجہ کے انسپکٹر جنرل نے اگست میں ایک رپورٹ پیش کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ محکمہ خارجہ نے 2019 میں سعودی عرب کو اسلحے کے فروخت کے وقت اس سے یمن میں شہریوں کی ہلاکت کے خطرے کا مکمل اندازہ نہیں لگایا تھا۔واضح رہے کہ امریکی کانگریس نے ٹرمپ انتظامیہ کے کانگریس کے جائزہ عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران سے کشیدگی کے معاملے پر ایمرجنسی ڈکلیئر کرکے سعودی عرب اور دیگر ممالک کو 8 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کے مئی 2019 کے فیصلے کی تحقیقات کی درخواست کی تھی۔امریکی سیکریٹری خارجہ نے رپورٹ سے متعلق انٹرویو کے بجائے تحریری جواب جمع کرا دیا تھا۔واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ نے سعودی عرب اور دیگر اتحادیوں کو 8 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیاروں کی فروخت کی مخالفت کی تھی اور اسے روکنے سے متعلق قراردادیں منظور کی تھیں۔تاہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ان قراردادوں کو مسترد کردیا تھا۔