سلامتی کونسل پر فلسطینیوں کو راحت فراہم کرنے میں ناکامی کا الزام

   

فلسطین کی تازہ ترین صورتحال پر غور کرنے ہنگامی اجلاس، پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کی سلامتی کونسل کی کارکردگی پر تنقید

نیویارک: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا ہے کہ سلامتی کونسل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بمباری، فاقہ کشی، نقل مکانی اور اجتماعی سزا کا شکار فلسطینیوں کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے جو اس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق پاکستانی مندوب نے فلسطین کی تازہ ترین صورتحال پر غور کے لئے بلائے گئے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ فلسطین میں ہماری آنکھوں کے سامنے جو کچھ ہو رہا ہے وہ ناقابل قبول ہے اور سلامتی کونسل کو اس سب کو روکنے کے لئے لازماً اقدامات کرنے چاہئیں۔انہوں نے الجزائر کی جانب سے پاکستان، چین، روس اور صومالیہ کی حمایت سے غزہ میں اجتماعی قبر سے امدادی کارکنوں کی 15 لاشوں کی دریافت پر بلائے جانے والے اجلاس میں کہا کہ ہم اس ادارے کا حصہ نہیں بن سکتے جو فلسطین کی موجودہ صورتحال پر محض تماشائی بنا رہے اور کچھ نہ کرے، ہم اس اخلاقی دیوالیہ پن اور انسانیت کے خاتمے کا حصہ بننے سے انکار کرتے ہیں۔ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غزہ اور اس سے باہر جاری سنگین انسانی بحران سلامتی کونسل کی بے عملی کی عکاسی کرتا ہے جس سے ایک خطرناک مثال قائم ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل جس استثنا کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، جنگ بندی معاہدے، بین الاقوامی قانون، یواین چارٹر اور جنیوا کنونشنز سمیت تمام مہذب طرز عمل کی خلاف ورزی کر رہا ہے اس سے فلسطینی عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا سلامتی کونسل کبھی ان پر ڈھا ئے جانے والے مظالم پر کوئی بامعنی قدم اٹھائے گی یا صرف افسوس کرنے تک محدود رہے گی۔انہوں نے کہا کہ ان مظالم پر اسرائیل کے خلاف کوئی اقدام اٹھانے میں سلامتی کونسل کی ناکامی نہ صرف اس ادارے کو بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد پر پر بنائے گئے بین الاقوامی نظام کو بھی تباہ کررہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے کہ لوگ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک عضو معطل تصور کر لیں اسے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنا کر اپنی موجودگی کا ثبوت دینا چاہیے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ اس وقت جب ایک طرف غزہ جل رہا ہے تو دوسری طرف مغربی کنارہ اپنے ایک اور نکبہ کا مشاہدہ کر رہا ہے جہاں 40 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری سے اب تک 99 فلسطینی مارے جا چکے ہیں اور اسرائیل مقبوضہ علاقے کو مستقل طور پر اپنی نوآبادی بنانے اور اس کو اپنے ساتھ ضم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ غزہ کے علاقے پر قبضہ کرنے کے اسرائیل کے منصوبے بھی اسی طرح کے ہیں جن میں ایک نام نہاد سکیورٹی کوریڈور کا قیام بھی شامل ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح تنازعہ خطرناک حد تک پھیل سکتا ہے اور مذکورہ اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہوں گے۔پاکستانی مندوب نے کہا کہ ہم اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے تقدس کی جان بوجھ کر پامالی کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
، یہ اسرائیلی اقدام اشتعال انگیز اور بین الاقوامی قانون کے تحت مذہبی آزادی کے تحفظات کی واضح خلاف ورزی ہے۔ عاصم افتخار احمد نے کہا کہ غزہ میں نہتے شہریوں بشمول بچوں ، خواتین، امدادی کارکنوں ، اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور صحافیوں کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں اور اسکولوں جیسے شہری انفراسٹرکچر پر اندھا دھند حملے کئے جا رہے ہیں، کوئی بھی مقام یہاں تک کہ تاریخی ثقافتی مقامات کو بھی ان اسرائیلی حملوں سے استثنا حاصل نہیں ، یہ مکمل تباہی اورایک ایسی صورتحال کی عکاسی ہے جہاں انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کو استثنا کے ساتھ نظر انداز کیا جا رہا ہے۔