حیدرآباد، 26 ستمبر ۔ ( پریس نوٹ ) ۔ سلطان العلوم کالج آف لاء (SUCL) میں تین سالہ ایل ایل بی پانچ سالہ بی اے ، ایل ایل بی اور بی بی اے پروگراموں سے فارغ التحصیل طلبہ کے اعزاز میں گریجویشن ڈے کا انعقاد عمل میں آیا۔ کالج کی پرنسپل ڈاکٹر وی۔ گیتا راؤ نے معزز مہمانوں، اساتذہ، طلبہ، والدین اور میڈیا کا خیرمقدم کیا اور کالج کی تعلیمی و قانونی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، جن میں قومی سطح کے مقابلے ، کرائم سین انویسٹی گیشن مقابلے ، لیگل ایڈ کلینک، موٹ کورٹس اور قانونی شعور بیداری پروگرام شامل ہیں۔ سوسائٹی کے اعزازی سکریٹری جناب ظفر جاوید نے فارغ التحصیل طلبہ اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی اور طلبہ کو مسلسل علم حاصل کرنے اور پیشہ ورانہ میدان میں محنت جاری رکھنے کی تلقین کی۔تلنگانہ ہائی کورٹ کے معزز جسٹس این۔ وی۔ شروَن کمار نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ قانون صرف قوانین اور دفعات کا نام نہیں بلکہ وکلاء عدالتی نظام اور انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان وکلاء کو اخلاقیات، علم اور حوصلے کے ساتھ پیشہ اختیار کرنے اور سول و کریمنل عدالتوں میں عملی تجربہ حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو ایک معاون ذریعہ رہنا چاہیے ، حاکم نہیں۔تلنگانہ ہائی کورٹ کے معزز جسٹس جی۔ ایم۔ محی الدین نے بھی فارغ التحصیل طلبہ اور ان کے والدین کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت قانونی شعبے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے ، تاہم انسانی ہمدردی کا متبادل نہیں بن سکتی۔ انہوں نے نوجوان وکلاء کو مفت قانونی امداد اور پرو بونو خدمات کے ذریعے عملی تجربہ حاصل کرنے کی ترغیب دی۔تلنگانہ بار کونسل کے رکن اور سلطان العلوم کالج آف لاء کے سابق طالب علم جناب ڈی۔ جگدیشور راؤ نے بھی طلبہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مسلسل سیکھنے ، عملی تجربے اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی اہمیت پر زور دیا۔تقریب کے دوران 2025 بیچ کی طالبہ خدیجہ کو عثمانیہ یونیورسٹی کی جانب سے جسٹس شری ایس۔ اوبول ریڈی میموریل گولڈ میڈل برائے کریمنل پروسیجر کوڈ حاصل کرنے پر تہنیت پیش کی گئی۔بعد ازاں فارغ التحصیل طلبہ نے معزز جج صاحبان کی نگرانی میں حلف لیا۔ تقریب کا اختتام کلماتِ تشکر اور قومی ترانے کے ساتھ ہوا۔