سلطان پور میں مسلمانوں کیخلاف یکطرفہ کارروائی غیر قانونی

   

پرتاپ گڑھ: پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ ضلع سلطان پور کے ابراہیم پور میں مورتی وسرجن کے دوران شرپسندوں کے ذریعہ مسجد کو نقصان پہونچانے و مدرسہ و دوکانوں میں توڑ پھوڑ کرنے پر پولیس کے ذریعہ سرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کے برعکس مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی انصاف و قانون کے خلاف و قابل مذمت ہے ۔ ڈاکٹر ایوب نے کہا کہ فرقہ وارانہ شکل دینے کیلئے مورتی وسرجن جلوس کے ساتھ چل رہے شرپسندوں نے ابراہیم پور میں مسجد کے نزدیک نماز کے وقت تیز آواز سے ڈی جے بجا رہے تھے ،نمازیوں نے آواز آہستہ کرنے کو کہا تو مسجد و نمازیوں پر حملہ کر مسجد کو نقصان پہونچایا اور مدرسہ و دوکانوں میں توڑ پھوڑ کر طلبہ کے ساتھ مار پیٹ کی اور مقامی پولیس کھڑی تماشائی بنی رہی جہاں ایس ایچ او امریندر سنگھ نے شرپسندوں پر کارروائی کے برعکس بھیڑ کو مشتعل کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان کو چن چن کر ماریں گے اور ان کے مکانات کو توڑ دیں گے ،مذکورہ بیان کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے ۔ وہیں اب اپنے بیان کے بموجب ایس ایچ او مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی کر رہے ہیں ۔ مدرسہ سمیت 5 افرادکے خلاف غیرقانونی قبضہ کی نوٹس جاری کی گئی ہے ،جن میں چار مسلم ایک ہندو یادو طبقے سے ہیں ۔کچہری میں فرقہ وارانہ بنیاد پر وکیلوں نے گرفتار مسلمانوں کے ساتھ مارپیٹ کی ہے ،جو انتہائی قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اقتدار میں انصاف کی امید نہیں کی جا سکتی۔
ملک و صوبہ میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرنے کے لئے ایک منظم سازش کے تحت فسطائی طاقتوں کی تنظیمیوں کے شرپسند عناصر سرگرم ہیں ،اور اسی بنیاد پر ابراہیم پور میں فرقہ وارانہ تشدد کا انجام دیا گیا ،جس میں پولیس انتظامیہ کا برابر تعاون رہا ہے۔ ڈاکٹر ایوب نے حکومت سے مطالبہ کہ انصاف کے مفاد میں اشتعال پھیلانے والے پولیس انسپکٹر امریندر سنگھ کے خلاف قانونی کارروائی کر فورا معطل کر یک طرفہ کارروائی پر قدغن لگایا جائے ۔
پیس پارٹی کی واقعہ پر نظر ہے اگر انصاف نہیں کیا گیا ،تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے گا ۔