نسل کشی پر اُکسانے کا الزام بچکانہ پن ۔ کانگریس مکت بھارت کا مطلب کیا کانگریسیوں کا قتل عام ہے:جونیر اسٹالن
نئی دہلی ؍ چینائی : ٹاملناڈو کے وزیر اُدھیا ندھی اسٹالن جو سناتن دھرم کا صفایا کردینے سے متعلق اپنے ریمارکس کی وجہ سے تنازعہ میں پھنس گئے ہیں ، اُنھوں نے آج اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اسے بار بار کہنے میں ہچکچائیں گے نہیں ۔ تاہم اُنھوں نے واضح کیا کہ اُن کا مقصد ذات پات کے اختلافات اور ذاتوں کے درمیان اونچ نیچ کی مذمت کرنا رہا ۔ اُنھوں نے کہاکہ گزشتہ روز ایک تقریب سے خطاب میں اُنھوں نے سناتن دھرم کے بارے میں ریمارک کیا ۔ میں نے جو کچھ کہا اُسے بار بار دہراؤں گا ۔ لیکن میں نے تمام مذاہب کا احاطہ کیا ، صرف ہندومت کی بات نہیں کہی ۔ میں نے ذات پات کے درمیان امتیاز کی مذمت کی ہے ۔ ماضی میں بھی وہ ہندوؤں میں ذات پات کے اونچ نیچ کیخلاف تبصرہ کرچکے ہیں اور بی جے پی کو مورد الزام ٹھہراتے رہے ہیں کہ وہ اپنے خلاف بڑھتی سیاسی مخالفت کے اندیشے کی وجہ سے فضول مسائل اُٹھارہی ہے ۔ چیف منسٹر ٹاملناڈو ایم کے اسٹالن کے بیٹے اُدھیاندھی نے کہا کہ وہ کسی بھی کیس کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں جو اُن کے خلاف بی جے پی دائر کرے گی ۔ بی جے پی کو انڈیا اتحاد سے خوف لاحق ہوگیا ہے اور وہ عوام کی توجہہ ہٹانا چاہتے ہیں ۔ بی جے پی نے کانگریس کے راہول گاندھی اور بہار کے سینئر سیاستدانوں نتیش کمار اور لالو پرساد یادو کو دبا کر سیاسی منظر سے ہٹانے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔ اُنھوں نے مودی حکومت کی جانب سے کانگریس مکت بھارت کی باتوں کا بھی سخت نوٹ لیا ۔ جونیر اسٹالن نے سناتن دھرم سے متعلق بیان پر اپنی وضاحت پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کوئی نسل کشی کی بات نہیں کی۔ ندھی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ بچکانہ حرکت کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میں نے نسل کشی کے لئے اُکسایا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب وزیراعظم مودی، کانگریس مکت بھارت کی بات کرتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کانگریسیوں کی نسل کشی کی جائے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے سناتن دھر م پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے نظریہ کو ختم کیا جانا چاہئے، میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔ندھی نے گذشتہ روز سناتن دھرم کا تقابل ڈینگو اور ملیریا جیسی بیماریوں سے کیا اور کہا تھا کہ اُسے ختم کرنا چاہئے۔