سنبھل میں یکم دسمبر تک باہر کے لوگوں کا داخلہ بند

,

   

مہلوکین کی تعداد4ہوگئی‘ ضیاء الرحمن برق سمیت 2500افراد کیخلاف مقدمہ درج
سنبھل (یوپی ): اتر پردیش کے سنبھل میں اتوار کو زبردست تشدد ہوا۔ جامع مسجد کے سروے کی مخالفت کرنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔ 20 سیکیورٹی اہلکار اور 4 انتظامیہ کے اہلکار اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اس دوران پتھر اور اینٹیں پھینکی گئیں۔ مظاہرین نے گاڑیوں کو آگ لگا دی اور پولیس پر پتھراؤ کیا گیا جس کے بعد پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کیا۔ میڈیاکے مطابق مرادآباد کے ڈویژنل کمشنر انجنیا کمار سنگھ نے بتایا کہ شرپسندوں نے فائرنگ کی، ایس پی کے پی آر او کو ٹانگ میں گولی لگی، سی او کو چھرے سے مارا گیا اور تشدد میں 20 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کانسٹیبل کے سر پر بھی شدید چوٹیں آئی ہیں جبکہ ڈپٹی کلکٹر کی ٹانگ فریکچر ہے۔ سنبھل تحصیل میں 24 گھنٹے کے لیے انٹرنیٹ خدمات بند ہیں، ضلع انتظامیہ نے 25 نومبر کو 12ویں جماعت تک کے تمام طلبہ کیلئے چھٹی کا اعلان کردیا تھا۔ ڈی ایم کے حکم پر یکم دسمبر تک باہر کے لوگوں کا داخلہ روک دیا گیا ہے، اس وجہ سے شہر کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے۔ مہلوکین کی شناخت نعیم، بلال انصاری، نعمان اور محمد کیف کے نام سے ہوئی ہے۔ نعمان اور بلال انصاری کو رات گیارہ بجے سپرد خاک کر دیا گیا۔ تشدد کے حوالے سے قومی انسانی حقوق کمیشن میں شکایت درج کرائی گئی ہے۔ایک طرف سنبھل میں یکم دسمبر تک بیرونی لوگوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ دوسری جانب سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے ایک پوسٹ میں کہا کہ بھائی چارے کو بگاڑنے والوں کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ بار ایسوسی ایشن کو بھی اس کے خلاف تادیبی اور تعزیری کارروائی کرنی چاہیے۔ اکھلیش نے کہا کہ اتر پردیش انتظامیہ سے نہ تو کوئی امید تھی اور نہ ہی ہے۔ 21 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے پاس سے کئی قسم کے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں۔ جس جگہ سے فائرنگ کی گئی وہاں سے مختلف بور کے خول برآمد ہوئے ہیں۔ حراست میں لیے گئے افراد کے گھروں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔علاقہ میں اضطراب آمیز سکون ہے اور پولیس کیا چوکسی برقرار ہے۔ پولیس نے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ضیا الرحمان برق کے علاوہ مقامی رکن اسمبلی کے بیٹے کے خلاف عوام کو اکسانے کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ2500افراد کے خلاف بھی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔