ممبئی : شیو سینا کے راجیہ سبھا ایم پی سنجے راوت کو منی لانڈرنگ کی روک تھام سے متعلق قانون (پی ایم ایل اے) کی عدالت نے پیر کے روز جمعرات 4 اگست تک انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ای ڈی نے سخت سیکورٹی کے درمیان سنجے راوت کو خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا ، جہاں عدالت نے انہیں حراست میں لینے کا حکم دیا۔ ای ڈی نے اتوار کو راوت کے گھر پر دھاوا کرنے کے بعد ممبئی کی پاترا چال (سلم بستی ) کے ری ڈیولپمنٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق ایک معاملے میں انہیں گرفتار کرلیا تھا۔خصوصی عدالت کے جج ایم ایم جی دیشپانڈے نے حکم نامہ پڑھا جبکہ راوت کو ای ڈی نے رات دیر گئے گرفتار کرنے کے بعد عدالت کے سامنے پیش کیا تھا ۔ ای ڈی کے اسپیشل کونسل ایچ ونئے گاؤنکر نے آٹھ روزہ تحویل کی درخواست کی جبکہ راوت کے وکیل سینئر کونسل اشوک مندرگی نے اس کی مختلف بنیادوں پر مخالفت کی ، جن میں اُن کے موکل کے صحت کے مسائل شامل ہیں۔ سنجے راوت دل کے مریض ہیں ۔ ونئے گاؤنکر نے استدلال پیش کیا کہ راوت تحقیقات میں تعاون نہیں کررہے ہیں اور اس لئے اُنھیں تحویل میں رکھ کر اُن سے پوچھ تاچھ ضروری ہے اور اس لئے ایجنسی آٹھ روزہ تحویل چاہتی ہے تاکہ پاترا چال اسکام اور متعلقہ مسائل کے دیگر پہلوؤں کی بھی تحقیقات ہوجائے ۔ اُنھوں نے دلیل پیش کی کہ شریک ملزم پراوین راوت محض ظاہری شخص ہے اور پاترا چال اسکام سے متعلق تمام معاملتیں مبینہ طورپر سنجے راوت کی ایما پر کی گئی ہیں۔ ای ڈی کے دلائل کی مخالفت کرتے ہوئے سینئر کونسل مندرگی نے کہاکہ راوت کی گرفتاری سیاسی مقصد برابری پر مبنی ہے اور اُنھوں نے اپنے موکل کے لئے اقل ترین تحویل کی استدعا کی ۔ اُنھوں نے کہاکہ وہ قلب سے متعلق مسائل سے دوچار مریض ہیں اور اُن کی سرجری ہوچکی ہے ۔ اس سلسلے میں تمام طبی کاغذات عدالت کو پیش کئے جاچکے ہیں۔ دریں اثناء راجیہ سبھا میں جہاں شیوسینا نے اپنے لیڈر سنجے راوت کی ای ڈی کے ذریعہ گرفتاری کا معاملہ اٹھایا، وہیں دیگراپوزیشن جماعتوں نے مہنگائی جیسے مسائل پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا۔شیوسینا کے ارکان نے ایوان کے وسط میں پہونچ کر راوت کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرنے لگے ۔ چیئرمین نے کہا کہ اس معاملے کا ایوان کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔