جنیوا : سوئس پارلیمنٹ نے لبنانی حزب اللہ گروپ پر پابندی کی منظوری دیتے ہوئے ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔کیونکہ سوئٹرزلینڈ کا شمار غیر جانب دار ممالک میں ہوتا ہے۔ ایک غیر جانب دار ملک کی طرف سے حزب اللہ پر پابندیاں عاید کرنا ایک غیر معمولی قدم ہے جو بین الاقوامی مذاکرات اور ثالثی کو فروغ دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔پابندی کے حامیوں نیسینیٹ کی منظوری کے بعد ایوان نمائندگان سے پابندی کا بل منظور کرایا۔ گذشتہ ہفتے اس نے کہا تھا کہ حزب اللہ گروپ بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، اور سوئٹزرلینڈ کو اس پر پابندی لگانے کی ضرورت ہے تاکہ “دہشت گردی کے خلاف مؤقف اختیار کیا جا سکے”۔سوئس حکومت نے پابندی کی مخالفت کی۔سوئس وزیر انصاف پیئٹ جونز نے اپرلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ “اگر سوئٹزرلینڈ اب خصوصی قوانین کے ساتھ ایسی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کنٹرول کہاں اور کیسے لگائے گئے ہیں”۔ایوان نمائندگان نے لبنانی گروپ پر پابندی کو 126 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کیا۔ 20 ارکان نے مخالفت کی جب کہ 41 نے غیر حاضر رہے۔