سواری منسوخ / مسترد کرنے پر جرمانہ

   

سائبر آباد پولیس کا فیصلہ کیاب ڈرائیورس کے لیے تکلیف دہ
حیدرآباد ۔ 23 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : شہر میں سواری سے انکار یا منسوخ کرنے والے کیاب ڈرائیورس کے خلاف کیس بک کرنے سائبر آباد پولیس کا فیصلہ کیاب ڈرائیورس کے لیے ناگوار بن گیا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ ٹیکسی کمپنیوں سے پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں اور اس سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے ۔ پولیس نے نیو موٹر وہیکلس ( ایم وی ) ایکٹ کے پرویژنس کا تذکرہ کیا ہے جس میں سواری منسوخ کرنے پر کیاب ڈرائیورس کو 500 روپئے تک چالان کیا جائے گا ۔ اوبیر کے لیے کام کرنے والے کیاب ڈرائیور ، منی کنٹا نے کہا کہ کیاب اگریگیٹر کمپنیاں ڈرائیورس کے لیے ہفتہ میں دو یا تین منسوخیوں کی اجازت دیتی ہیں ۔ اس نے کہا کہ ’ اس سے بڑھ کر اگر ہم کوئی سواری منسوخ کرتے ہیں تو وہ اس کی وجہ معلوم کیے بغیر ہم کو بلیک لسٹ کردیتی ہیں ‘ ہمارے ریٹنگ کو گھٹا دیتی ہیں اور ہمارے اکاونٹ سے رقم بھی کاٹ لیتی ہیں ۔ پھر اس کے بعد ایک لمبا طریقہ کار ہوتا ہے جس میں ہم کو ہیڈ آفس جانا پڑتا ہے اور ڈرائیور کی بحالی کے لیے کہنا پڑتا ہے ۔ ہر وہ روز جو ہم ضائع کرتے ہیں ہمارے بلز جمع ہوتے جاتے ہیں کیوں کہ ہمیں گاڑیوں کے لیے ای ایم آئز ادا کرنا ہوتا ہے ، گھر کا کرایہ ادا کرنا ہوتا ہے اور ہمارے خاندانوں پر توجہ دینا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا ہوتاہے ‘ ۔ جب کہ پولیس نے کہا ہے کہ اس نے ڈرائیورس کی جانب سے ان کی سواری کو منسوخ کرنے سے متعلق کئی شکایتوں کے موصول ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ انہیں ( ڈرائیورس کو ) کمپنیز کی جانب سے صرف کنٹراکٹر سمجھا جاتا ہے اس لیے چالان کا بوجھ ان پر عائد نہیں ہوگا ۔ ایک کیاب ڈرائیور نے کہا کہ ’ اگر گاڑی ہماری ہو ، اور ہم محض ایک کنٹراکٹر ہوں تو کیا ہمارے لیے مسترد کرنے کا حق بھی نہیں ہوگا ‘ ۔ حال میں 18 دسمبر کو ایک اولا بائیک رائیڈر کو اس کی جانب سے ایک رائیڈ منسوخ کرنے کے بعد 535 روپئے کا چالان جاری کیا گیا ۔ اس کیس میں شکایت کنندہ ، سائی تیجا نے بھی جو فورم اگینسٹ کرپشن ( ایف اے سی ) میں سوشیل میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنس کے صدر ہیں ، ڈرائیورس سے جزوی طور پر سہی اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ یہ سچ ہے کہ کیاب ڈرائیورس کا کمپنیاں استحصال کرتی ہیں اور انہیں مناسب معاوضہ ادا کیے بغیر ایک اسٹریچ پر کئی گھنٹوں تک کام کرواتی ہیں ۔ لیکن ایسے بھی کئی ڈرائیورس ہیں جو کسٹمر کو کال کریں گے اور معلوم کریں گے کہ وہ کہاں جارہے ہیں اور رائیڈ کینسل کردیتے ہیں ۔ چونکہ ہم اس طرح کے کیسیس کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں اس لیے میں نے خاص میرے واقعہ میں شکایت کی ہے ‘ ۔ ایف اے سی نے اس مسئلہ پر ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک درخواست بھی داخل کرتے ہوئے کہا کہ اگریگٹیرس کی جانب سے قیمتوں کا تعین غیر قانونی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’ ہم بھی انسان ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ڈرائیورس کو زندگی گذارنے کے لیے پیسے کمانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ وقت کا تقاضہ یہ ہے کہ کمپنیاں وہ خود ریگولیٹ بن جائیں اور تمام قوانین کی پابندی کریں اور ان کے لیے کام کرنے والوں کو ان کا صحیح معاوضہ ادا کریں ‘ ۔۔