لینگریج پوائنٹ پر پہنچنے چا ماہ درکار‘چندریان۔3کے بعد اسرو کی ایک اور کامیابی
نئی دہلی : چندریان-3 کی کامیابی کے بعد انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن اسرو نے سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے اپنے شمسی مشن آدتیہ-L1 کو کامیابی کے ساتھ لانچ کردیا ہے۔ اس مشن کو آج صبح 11.50 بجے سری ہری کوٹا اسپیس پورٹ( آندھرا پردیش) سے لانچ کیا گیا۔ یہ مشن زمین کے قریب ترین تارے کے بارے میں مطالعہ کرنے کے لئے پانچ سالوں کے دوران 1.5 ملین کلومیٹر کا سفر کرے گا۔ یہ خلائی جہاز PSLV-C57 راکٹ سے لانچ کیا گیا۔ اسرو کے چیئرمین ایس سومناتھ نے کہا کہ سورج مشن کو صحیح دائرے تک پہنچنے میں 125 دن لگیں گے۔اسرو نے آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا میں ستیش دھون خلائی مرکز سے ہندوستان کا پہلا شمسی مشن AdityaL1 کامیابی کے ساتھ لانچ کردیا ہے۔ آدتیہ L1 سورج کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لئے سات الگ الگ پے لوڈ لے کر جا رہا ہے۔ اسرو کا سولار مشن آدتیہ L1 پے لوڈ زمین کے ماحول سے باہر نکلتے ہی الگ ہو گیا ہے۔ فی الحال اسرو کے مطابق تیسرے مرحلے کو الگ کردیا گیا ہے۔خیال رہے کہ آدتیہ ایل ون خلائی جہاز سورج کی بیرونی تہہ کا دور دراز سے مشاہدہ کرنے اور شمسی ماحول کا مطالعہ کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ شمسی ہواوں کا بڑے پیمانے پر مطالعہ کرے گا جو زمین پر ہنگامہ خیزی کا باعث بن سکتی ہیں اور اسے عام طور پر ‘ارورہ’ کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔ اسرو نے خلائی انجینئرنگ میں دنیا کو مات دینے والی لاگت اور مسابقت کیلئے شہرت حاصل کی ہے۔ چندریان 3 مشن کیلئے صرف 600 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ وہیں آدتیہ-ایل 1 ، چندریان-3 کی تقریباً نصف لاگت سے بنایا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ حکومت نے سورج کے ماحول کا مطالعہ کرنے کے مشن کیلئے سال 2019 میں 378 کروڑ روپے کی منظوری دی تھی۔ حالانکہ اسرو نے ابھی تک لاگت کے بارے میں کوئی آفیشل اپ ڈیٹ نہیں دیا ہے۔ اسرو کے مطابق آدتیہ ایل ون سات پے لوڈ لے کر جارہا ہے، جو فوٹو اسفیئر (سورج کی نظر آنے والی سطح)، کروموسفیئر (مرئی سطح کے بالکل اوپر) اور سورج کی سب سے بیرونی تہہ (کورونا) کا الگ الگ مشاہدہ کرنے میں مدد کرے گا۔
آدتیہ L-1 کی کامیابی ،کھرگے ، پرینکا کی سائنسدانوں کو مبارکباد
نئی دہلی: کانگریس کے صدر ملک ارجن کھرگے اور پارٹی لیڈر پرینکا گاندھی نے ہفتہ کے روز انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کے سائنسدانوں کو آدتیہ ایل۔1 مشن کے کامیاب لانچ کے لئے مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اسرو کے سائنسداں اسی طرح کی کامیابیوں سے ملک کو خوشیاں دیتے رہیں گے ۔ کھرگے نے کہاکہ ہم اپنے سائنسدانوں، خلائی انجینئروں، محققین اور اسرو میں تعینات اپنے محنتی اہلکاروں کے ممنون اور شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کا شمسی مشن 2006 میں شروع ہوا، جب ہمارے سائنسدانوں نے سورج کیلئے ایک ہی خلائی گاڑی میں شمسی آبزرویٹری کی تجویز پیش کی تھی۔ جولائی 2013 میں، اسرو نے آدتیہ-1 مشن کیلئے سات آلات کا انتخاب کیا جسے اب آدتیہ-ایل1 مشن کا نام دیا گیا ہے ۔
نومبر 2015 میں، اسرو نے باضابطہ طور پر آدتیہ-ایل1 کو منظوری دی۔ قمری مشن، پہلا- 2008، دوسرا- 2019 اور تیسرا- 2023 اور مریخ کے مشن 2013 کی شاندار کامیابیوں کے بعد سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے سٹیلائٹ نصب کرنے کی سمت میں ہمارا راستہ تھوڑا زیادہ محفوظ ہوگیا ہے “جناب کھڑگے نے کہا، “ملک نے سائنس، ٹکنالوجی اور تحقیق کی صلاحیت سازی چند سالوں میں نہیں بلکہ دہائیوں میں کی ہے اور خلائی تحقیق میں ہندوستان کی کامیابی اسی بے مثال ہمت اور عزم کا نتیجہ ہے ۔ تمام تر مشکلات کے باوجود، ہم نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس تاریخی کامیابی میں ہمارے باوقار سائنسدانوں اور لاتعداد محققین کی دور اندیشی، ذہانت اور لگن کارفرما ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کامیابیاں ہماری نوجوان نسل کو متاثر کرتی رہیں گی اور ہمارے لوگوں میں گہری سائنسی فکر پیدا کرتی رہیں گی۔”محترمہ پرینکا گاندھی نے کہا، “اسرو نے پھر سے تاریخ رقم کی ہے ۔ چندریان -3 کی تاریخی کامیابی کے بعد، اسرو نے اب سورج مشن آدتیہ ایل-1 کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرکے خلا میں ہندوستان کی طاقت ثابت کردی ہے ۔ اسرو کی پوری ٹیم اور سب لوگوں کو نیک خواہشات۔ جئے ہند۔”