فوری اقدامات نہ کرنے پر صورتحال ابتر ہونے کا امکان ، ملت اسلامیہ کو فوری توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد۔ 10۔مارچ(سیاست نیوز) سوشل میڈیا پر اخلاقی گراوٹ کا شکار نوجوانوں کو اس بات کا احساس بھی نہیں رہا کہ وہ ماہ رمضان المبارک اور روزہ جیسی عبادت کا مذاق اڑانے لگے ہیں۔ان نوجوانوں کی حرکات پر قابو پانے کے لئے فوری طور پر اقدامات نہ کئے جانے کی صورت میں حالات انتہائی ابتر ہونے کا خدشہ ہے اسی لئے ذمہ داران ملت اسلامیہ کو فوری طورپر اس مسئلہ کا جائزہ لیتے ہوئے اسے حل کرنے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ماہ رمضان المبارک کے دوران سوشل میڈیا کے ذریعہ مثبت فکر پیدا کرنے اور اچھے پیغام دینے کی کوشش کے دوران اب جو صورتحال ہوچکی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ریل بنانے والے یا دیگر اداکار جو اپنے اداکاری کے جنون اور اپنی ویڈیو کو وائرل کرنے کے لئے اس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں کہ انہیں ماہ رمضان المبارک کی عظمت اور اس کی مخصوص عبادتوں کا مذاق بنانے میں بھی کوئی عار نہیں رہا بلکہ وہ اپنے مقصد کی تکمیل کے لئے اس قدر چھچھورے پن پر اتر آئے ہیں کہ عبادتوں کا مذاق بنانے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں اور سحر و افطار کا مذاق بناتے ہوئے کئی ویڈیو بنائے جانے لگے ہیں ۔ آن لائن پلیٹ فارمس کے ذریعہ ہونے والی آمدنی اور شہرت کے جنون نے فیس بک اور یو ٹیوب کے اداکاروں کو اس قدر دیوانہ بنا دیا ہے کہ وہ مذہبی اصولوں اور احترام کا بھی خیال نہیں کر پا رہے ہیں۔ شاپنگ کی تشہیر اور شاپنگ کے مراکز کی تشہیر کے لئے جس قدر اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ کیا جا رہاہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان اداکاروں یا فنکاروں کو اس بات کی بالکل بھی پرواہ نہیں ہے کہ وہ اپنے چاہنے والوں کو کس راہ پر لے جا رہے ہیں کیونکہ ان کی بے ہودہ تشہیر اور شوہر اور بیوی کے درمیان ناقابل قبول مکالمات کی ادائیگی نوجوانوں کی زندگی میں عام ہونے لگی ہے۔ شہر حیدرآباد سے چلائے جانے والے بعض مزاحیہ یوٹیوب و فیس بک چیانلس کے ذریعہ ماہ رمضان المبارک کی مناسبت سے ویڈیوز بنائے جاتے ہیں لیکن ان ویڈیوز میں اس بات کا خصوصی لحاظ رکھا جاتا ہے کہ ویڈیو کے ذریعہ کسی کی دلا ٓزاری نہ ہو لیکن بیشتر ایسے یوٹیوبرس ہوچکے ہیں جنہیں مذہبی اقدار کے متعلق کوئی معلومات نظر نہیں آتی اسی لئے وہ نا دانستگی میں ماہ رمضان المبارک کی مخصوص عبادتوں سحر و افطار کے علاوہ تراویح کا بھی مذاق اڑانے لگے ہیں اور اس طرح کے ویڈیوز تیار کر رہے ہیں کہ ان ویڈیوز کے ذریعہ غلط پیغام جا رہا ہے ۔ ان یوٹیوبرس اور فیس بک پر ویڈیو بنانے والے نوجوان اداکاروں کی فوری طور پر اصلاح ضروری ہے کیونکہ اگر ان کی اصلاحت نہیں کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں معاشرہ میں بگاڑ پیدا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔یہی حال فوڈ بلاگرس کا ہے جو کہ ماہ رمضان المبارک کے مقدس مہینہ کو کھانے کے مہینہ کے طور پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر پیش کرنے لگے ہیں اور یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس ماہ مبارک کے دوران مسلمان کھانے کے علاوہ کچھ نہیں کرتے اور فوڈ بلاگرس اپنے مفت کے کھانے کے چکر میں نوجوان نسل کو کھانے کے ان مراکز کے متعلق اس طرح سے واقف کروارہے ہیں کہ اگر اس مقام پر پہنچ کر نوجوانوں نے کھانا نہیں کھایا ہے تو انہوں نے ماہ رمضان المبارک کے دوران کچھ کیا ہی نہیں۔اس کے علاوہ ماہ رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو سحر و افطار ہوٹلوں میں کرنے کی سہولت ہوا کرتی ہے لیکن اس سہولت کو فوڈ بلاگرس کی جانب سے معیار زندگی کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے ۔ علماء اکرام بالخصوص نوجوان علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان فوڈ بلاگرس اور سوشل میڈیا کے اداکار اور فنکاروں کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں مـثبت پیغام دینے والی ویڈیوز تیار کرنے کے لئے رہنمائی کریں اور ایسی کسی بھی ویڈیو کی تیاری سے انہیں روکیں جن کے ذریعہ ماہ رمضان المبارک کی عبادتوں کے مذاق کا احتمال ہوتا ہے۔3