ضرورت پڑنے پر دواخانہ بھی منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ ہر شہری کی زندگی بہت قیمتی ہے ۔ عدالت کا تاثر۔ بھوک ہڑتال 19 دن سے جاری
نئی دہلی 16 جولائی ( ایجنسیز ) دہلی ہائیکورٹ نے آج حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ماحولیاتی جہد کار سونم وانگ چوک کی صحت کی برقراری کیلئے ضروری اقدامات کرے جو اب گذشتہ 19 دن سے بھوک ہڑتال پر ہیں ۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفی کا مطالبہ کرتے ہوئے شروع کی گئی کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شمولیت کے بعد بھوک ہڑتال شروع کردی تھی ۔ عدالت نے آج احکام جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ جو کچھ بھی طبی مداخلت سونم وانگ چوک کی زندگی بچانے کیلئے ضروری ہو وہ کی جانی چاہئے ۔ عدالت نے کہا کہ ہمارے خیال میں ہر شہری کی زندگی قیمتی ہے اور حکام کی جانب سے ہر شہری کی زندگی کا تحفظ کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ واضح رہے کہ عدالت میں کل ہی ایک درخواست دائر کرتے ہوئے یہ مطلع کیا گیا تھا کہ اگر سونم وانگ چوک نے اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کی تو وہ شائد آئندہ 48 گھنٹوں کے بعد زندہ بھی نہیں رہیں گے ۔ درخواست میں حکومت پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ صورتحال سے بالکل لاپرواہ ہوگئی ہے اور اس کا رویہ بے حسی والا ہوگیا ہے ۔ یہ درخواست اس وقت داخل کی گئی تھی جب تک سونم وانگ چوک کا بھوک ہڑتال کی وجہ سے 8.5 کیلوگرام وزن کم ہوگیا تھا ۔ عدالت نے حکومت سے کہا کہ سب سے آسان کام یہی ہے کہ انہیں ایک سرکاری دواخانہ کو منتقل کیا جائے ۔ زندہ رہنے کیلئے جو کچھ بھی غذائی اشیاء کی ضرورت ہے انہیں زبردستی دی جائیں ۔ انہیں وٹامن ‘ معدنیات وغیرہ مائع کی شکل میں دی جائیں جو انسانی جسم کیلئے ضروری ہیں۔ اس درخواست میں استدلال پیش کیا گیا کہ عوامی جگہ پر پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی اور حجمہوری حق ہے ۔ کہا گیا کہ وانگ چوک کی بھوک ہڑتال کی وجہ سے اگر موت واقع ہوجاتی ہے تو یہ نہ صرف ملک کیلئے بلکہ ساری دنیا کیلئے شرم کی بات ہوگی ۔