سونیا گاندھی کو کھمم ، نلگنڈہ یا محبوب نگر لوک سبھا حلقوں سے مقابلہ کی پیشکش

   

تلنگانہ میں 10 تا 15 نشستیں ریونت ریڈی کے نشانہ پر،اسمبلی کی طرح بہتر مظاہرہ کی حکمت عملی
حیدرآباد 22۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 10 سال بعد پہلی مرتبہ تشکیل حکومت میں کامیابی نے کانگریس کیلئے لوک سبھا انتخابات کو ایک چیلنج بنادیا ہے۔ تلنگانہ کی تشکیل کے 10 سال تک بی آر ایس برسر اقتدار رہی اور کانگریس ہائی کمان نے تلنگانہ سے کافی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر ریونت ریڈی لوک سبھا چناؤ میں سونیا گاندھی کو تلنگانہ سے مقابلہ کی ترغیب دیتے ہوئے 10 تا 15 لوک سبھا حلقوں پر کامیابی کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ پولیٹکل افیرس کمیٹی اجلاس میں سونیا گاندھی کو تلنگانہ سے مقابلہ کی دعوت دینے قرارداد منظور کی گئی ۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کا ماننا ہے کہ اگر تلنگانہ تشکیل دینے والی شخصیت سونیا گاندھی ریاست کے کسی حلقہ سے مقابلہ کرتی ہیں تو اس کا اثر دیگر حلقہ جات پر پڑیگا اور کانگریس 10 سے زائد لوک سبھا حلقوں پر بآسانی کامیابی حاصل کرسکتی ہے۔ 17 لوک سبھا حلقوں میں فی الوقت کانگریس کی تین نشستیں ہیں۔ اسمبلی چناؤ کے بعد تینوں نشستوں سے لوک سبھا ارکان نے استعفیٰ دیدیا ۔ ریونت ریڈی ، اتم کمار ریڈی اور وینکٹ ریڈی تینوں اسمبلی کیلئے منتخب ہوئے اور انہوں نے ملکاجگری ، نلگنڈہ اور بھونگیر لوک سبھا حلقوں سے استعفیٰ پیش کردیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی کو نلگنڈہ یا کھمم لوک سبھا حلقوں سے مقابلہ کی دعوت دی جائیگی ۔ آنجہانی اندرا گاندھی نے 1980 ء میں میدک حلقہ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ موجودہ صورتحال میں چیف منسٹر اور ان کے قریبی ساتھی کھمم یا نلگنڈہ سے سونیا گاندھی کے مقابلہ کے حق میں ہیں کیونکہ اسمبلی چناؤ میں کانگریس نے دونوں اضلاع میں شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ اسمبلی چناؤ میں نلگنڈہ کی 12 نشستوں میں کانگریس کو 11 پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ متحدہ کھمم ضلع کی 10 میں 9 اسمبلی حلقہ جات پر کانگریس کامیاب رہی۔ متحدہ محبوب نگر ضلع میں کانگریس نے 11 اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ کانگریس پارٹی کو یقین ہے کہ اگر سونیا گاندھی کھمم ، نلگنڈہ یا محبوب نگر میں کسی ایک حلقہ سے مقابلہ کرتی ہیں تو ریاست میں کم از کم 10 تا 12 نشستوں پر کانگریس کامیاب رہے گی۔ ریونت ریڈی نے 15 نشستوں پر کامیابی کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ لوک سبھا چناؤ میں اصل مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان رہے گا اور بی آر ایس تیسرے مقام پر رہے گی۔ ایسے میں مرکز میں کانگریس کو تشکیل حکومت کیلئے زیادہ نشستوں کی ضرورت پڑے گی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کرتے ہوئے 10 سے زیادہ نشستوں پر کانگریس کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ سونیا گاندھی سے ملاقات کے موقع پر ریونت ریڈی انہیں پولیٹکل افیرس کمیٹی کی قرارداد سے واقف کراتے ہوئے تلنگانہ سے مقابلہ کی دعوت دیں گے۔