مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اظہار رائے کی آزادی نہیں‘سویڈن کے وزیر کا دورہ ترکیہ منسوخ
اسٹاک ہوم: سویڈن کی جانب سے اسلام مخالف مظاہروں کے اجازت نامہ کے بعد ترکیہ کے سفارت خانے کے باہر اسلام پر شدید تنقید اور قرآن پاک کو نذر آتش اور بے حرمتی کرنے پر پاکستان اور ترکیہ نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام مخالف نعرے لگانے اور قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے پر ترکیہ نے احتجاجاً سویڈن کے وزیر دفاع کا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے۔ڈنمارک اور سویڈن سے تعلق رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان راسمس پلاوڈن کو سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قائم ترکیہ کے سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہروں کا اجازت نامہ جاری کرنے پر ترکیہ کے حکام نے شدید مذمت کی۔انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان راسمس پلاوڈن نے اسلام پر شدید تنقید اور نازیبا ریماکس کرنے کے بعد قرآن پاک کو نذر آتش کیا، انہوں نے مظاہرین سے کہا کہ اگر آپ نہیں سمجھتے کہ آزادی اظہار رائے ہونا چاہیے تو آپ کو کہیں اور رہنا چاہیے۔راسمس پلوڈان کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی اور اسلام مخالت نعرے لگانے پر ترکیہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سویڈش ہم منصب پال جونسن کا 27 جنوری کو طے شدہ دورہ اب نہیں ہوگا۔ترکیہ کے وزیر دفاع ہولوسی آکار نے کہا کہ اس ملاقات کی اب کوئی اہمیت نہیں اس لیے ہم نے اس دورے کو منسوخ کردیا۔پال جونسن نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن کے لیے ترکیہ کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور مستقبل میں مشترکہ سیکیورٹی اور دفاعی مسائل کے حوالے سے بات چیت کو جاری رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔سویڈن کے وزیر خارجہ توبیان بل اسٹروم نے بھی راسمس پلوڈان کے احتجاج پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا پر مبنی اشتعال انگیزی خوفناک ہے، سویڈن میں اظہار رائے کی آزادی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سویڈن کی حکومت یا میں ذاتی طور پر اس اظہار کی حمایت کریں‘۔راسمس پلوڈان کے احتجاج کی سیکیورٹی میں پولیس کی بھاری تعداد شامل تھی جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد سمیت تقریباً 100 کے قریب لوگ اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانے کے باہر موجود تھے۔احتجاج ختم کروانے میں ناکامی پر ترکیہ کے وزیر خارجہ نے سویڈش حکام پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ نسل پرستی ہے۔ترکیہ کے سفارتخانے کی دوسری جانب ترکیہ کے حمایتیوں نے بھی مظاہرہ کیا جبکہ سویڈن کی روجاوا کمیٹی اور دیگر کی جانب سے کردوں کی حمایت میں ریلی بھی نکالی گئی جس میں سینکڑوں افراد موجود تھے۔ دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کی کارروائی سے دیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اظہار رائے کی آزادی میں نہیں آتا۔بیان میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کے علمبردار نفرت انگیز عمل کی روک تھام کی ذمہ داری نبھائیں اور تشدد پر نہ اکسانے کی ذمہ داری نبھائیں۔ سعودی عرب، خلیجی ممالک، کویت، پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ اردن نے بھی اس واقعہ کو انتہاء پسندی اور تعصب پر مبنی قرار دیا۔
قرآن مجید کی بیحرمتی: سویڈن کے سفیر کی دفتر خارجہ میں طلبی
اسٹاک ہوم : سویڈن کے انقرہ میں سفیر اسٹافن ہیرسٹروم کو وزارت خارجہ میں طلب کرتے ہوئے اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانے کے سامنے قرآن کو نذرِ آتش کرنے کی اجازت دینے پر سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔اسٹاک ہوم میں ترک سفارت خانے کے قریب قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کے عمل کی آج کے لیے اجازت دیے جانے کی اطلاع پانے پر سویڈن کے انقرہ میں سفیر کو کل دفتر ِ خارجہ طلب کیا گیا۔سفیر ہیرسٹروم سے کہا گیا ہے کہ زیر بحث اشتعال انگیز عمل، جو کہ واضح طور پر نفرت انگیز جرائم میں شمار ہوتا ہے، کی شدید مذمت کی جاتی ہے، سویڈن کا رویہ ناقابل قبول ہے، ترکیہ اس بات کی توقع کرتا ہے کہ اس کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور مقدس اقدار کی “جمہوری حقوق” کی آڑ میں توہین کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ہیرسٹرم کو یاد دلاتے ہوئے کہ آج علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK سے وابستہ حلقوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ سٹاک ہوم کے مرکز میں ایک مظاہرہ کریں گے، یہ کہا گیا کہ دہشت گرد تنظیموں اور ان کے حامیوں کو پروپیگنڈہ سرگرمیوں کی اجازت دینا سہ فریقی عہد نامہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ترکیہ گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر مصطفیٰ شنتوپ نے سویڈن میں منعقد کیے جانے والے اشتعال انگیز کارروائی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ مصطفیٰ سین ٹاپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کیے گئے پیغام میں لکھا ہے کہ “اسٹاک ہوم میں ہمارے سفارت خانے کے سامنے قرآن کے خلاف ‘نفرت انگیز کاروائی’ کی اجازت دینا نفرت آمیز جرائم میں سویڈش انتظامیہ کی شمولیت کا مظہر ہے۔