چارج شیٹ پیش ہونے پر کوئی جواز نہیں، ضمانت کیخلاف صحافی کی درخواست پر عدالت کی برہمی
حیدرآباد۔/15 جنوری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو کو سپریم کورٹ میں آج اس وقت راحت ملی جب اِسکل ڈیولپمنٹ مقدمہ میں چندرا بابو نائیڈو کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے سابق حکومت کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو مسترد کردیا گیا۔ جسٹس بی تریویدی کی زیر قیادت بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمہ میں چارج شیٹ داخل کردی گئی ہے لہذا ضمانت کو منسوخ کرنے کی درخواست کی کوئی گنجائش نہیں۔ جسٹس تریویدی نے کہا کہ چارج شیٹ داخل کئے جانے کے بعد ضمانت کو منسوخ کرنے کے معاملہ میں مداخلت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے سابق حکومت کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کو مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ نے چندرا بابو نائیڈو کو مشورہ دیا کہ وہ اِسکل ڈیولپمنٹ کیس کی جانچ میں حکام سے تعاون کریں۔ واضح رہے کہ نومبر 2023 میں آندھرا پردیش ہائی کورٹ نے چندرا بابو نائیڈو کو ضمانت منظور کی تھی۔ اسی دوران چندرا بابو نائیڈو کی ضمانت منسوخ کرنے کیلئے ایک صحافی بالا گنگا دھر تلک کی جانب سے داخل کی گئی درخواست پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے سوال کیا کہ مقدمہ سے آپ کا کیا تعلق ہے اور آپ کون ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ مفاد عامہ کی درخواست داخل کرنے کا کیا جواز ہے۔ عدالت نے کہا کہ ضمانت کے معاملہ میں تیسرے فریق کو مداخلت کی کیا گنجائش ہے۔ جسٹس تریویدی نے برہمی کا اظہار کیا کہ اس معاملہ سے کسی تعلق کے بغیر مفاد عامہ کی درخواست داخل کی گئی ہے۔ عدالت نے انتباہ دیا کہ اگر دوبارہ اس طرح کی حرکت کی گئی تو سنگین نتائج ہوں گے۔ جسٹس تریویدی نے صحافی کی انٹر لوکیٹری اپلیکیشن کو مسترد کردیا۔ واضح رہے کہ آندھرا پردیش کی وائی ایس آئی آر کانگریس حکومت نے چندرا بابو نائیڈو کے خلاف اِسکل ڈیولپمنٹ اسکیم میں بے قاعدگیوں کا مقدمہ درج کیا تھا اور ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ ستمبر 2023 میں چندرا بابو نائیڈو کو گرفتار کیا گیا جبکہ نومبر میں ہائی کورٹ نے ضمانت منظور کی جس کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔ آندھرا پردیش میں حکومت کی تبدیلی کے بعد مقدمہ از خود کمزور ہوچکا ہے۔1