ڈاکٹرمنموہن کا سیاسی وقار اور سیکولر اقدار ناقابل فراموش، اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے کئی اقدامات کئے گئے
مونگیر: سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے انتقال پر امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ آج یہاں جاری ایک بیان میں امیر شریعت نے کہا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ ایک مدبر سیاستدان، ماہر اقتصادیات، اور ملک کی سیکولر اقدار کے حامی اور اس کی بقا کے لیے کوشاں تھے ۔ ان کی وفات سے ملک ایک عظیم سیاست داں سے محروم ہوگیا ہے ، جنہوں نے ہندوستان کی ترقی، سالمیت اور معاشی استحکام میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہوں نے اپنے والد مفکر اسلام امیر شریعت سابع مولانا محمد ولی رحمانیؒ کے ساتھ پیش آئے ایک اہم واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سیاسی بصیرت اور مذہبی آزادی کے احترام کی مثال ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ سپریم کورٹ کے ایک فیصلے میں، جس میں ایک مسلمان طالب علم کو داڑھی نہ کٹوانے پر اسکول سے نکال دیا گیا تھا اور عدالت کے ایک جج کی جانب سے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والے تبصرے نے پوری قوم میں اضطراب پیدا کیا۔ اس وقت مولانا محمد ولی رحمانیؒ نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور سپریم کورٹ کی جانب سے داڑھی کے اس معاملہ کی سنگینی پر اُن کو مطلع کیا، اس پر ڈاکٹر منموہن سنگھ نے معاملے کی سنگینی کو سمجھا اور فوری اقدام کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں انصاف کی بحالی ممکن ہوئی۔ یہ ان کی حساسیت، انصاف پسندی اور تمام مذاہب کے جذبات کے احترام کا مظہر ہے ۔ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں ملک کے لیے اور بالخصوص اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ، جو یقیناً قابل ستائش ہیں۔ مثال کے طور پر سچر کمیٹی کی تشکیل (2005): وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مسلمانوں کی سماجی، اقتصادی اور تعلیمی حالت کا جائزہ لینے کے لیے جسٹس راجندر سچر کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی۔ اس رپورٹ نے مسلمانوں کی پسماندگی کو اجاگر کیا اور ان کی ترقی کے لیے متعدد سفارشات پیش کیں۔ اسی طرح تعلیمی وظائف اور اسکیمیں: منموہن سنگھ کی حکومت نے اقلیتی طلباء کے لیے تعلیمی وظائف اور اسکیموں کا آغاز کیا، جن کا مقصد ان کی تعلیمی ترقی کو فروغ دینا تھا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اقلیتی طلباء کی تعلیمی شرکت میں اضافہ ہوا۔ معاشی اصلاحات: 1991ء میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے منموہن سنگھ نے اقتصادی اصلاحات کی بنیاد رکھی، جنہوں نے ہندوستان کو ادائیگیوں کے شدید بحران سے نکالا اور معیشت کو آزاد کیا۔ ان اصلاحات نے ملک کی معیشت کو عالمی سطح پر مستحکم کیا اور تمام شہریوں کے لیے معاشی مواقع پیدا کیے ۔ اس اقدام سے اقلیتی طبقے میں اقتصادی آزادی کو فروغ ملا۔