سکریٹریٹ مساجد کی بازیابی کیلئے حج ہاؤز پر کانگریس کا دھرنا

,

   

ارکان وقف بورڈ سے استعفیٰ کا مطالبہ، دوبارہ تعمیر تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
حیدرآباد : سکریٹریٹ مساجد کی بازیابی کے سلسلہ میں کانگریس نے اپنے احتجاج میں شدت پیدا کرکے حج ہاؤز کے روبرو احتجاجی دھرنا منظم کیا۔ مساجد کے تحفظ میں وقف بورڈ کی ناکامی کے خلاف نعرے بازی کی گئی اور قائدین نے عابڈس پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی ۔ صدرنشین تلنگانہ کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل کی قیادت میں سینئر قائدین انجن کمار یادو صدر گریٹر حیدرآباد ، سید نظام الدین ترجمان ، سمیر ولی اللہ صدرنشین میناریٹی ڈپارٹمنٹ حیدرآباد ، محمد فیروز خاں نامپلی انچارج اور دیگر نے علامتی دھرنا منظم کیا۔ احتجاجی قائدین پلے کارڈس تھامے تھے جس پر وقف بورڈ کے ارکان کی تصاویر تھیں۔ احتجاجیوں نے ٹی آر ایس حکومت اور چیف منسٹر کے خلاف نعرے لگا کر مساجد کے تحفظ میں ناکامی پر وقف بورڈ کے ارکان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ دھرنے کے موقع پر پولیس کے سخت انتظامات تھے اور احتجاجیوں کو حج ہاؤز میں داخلہ سے روک دیا گیا۔ بعد میں کانگریس قائدین نے عابڈس پولیس اسٹیشن پہنچ کر بورڈ ارکان کے خلاف شکایت درج کرائی ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ سکریٹریٹ مساجد آندھراپردیش گزٹ 1982 کے تحت سیریل نمبر 158 میں درج ہیں۔ حکومت نے وقف اراضی کو تحویل میں لے کر مساجد کو منہدم کردیا ۔ چیف سکریٹری سومیش کمار کو کیس میں ملزم بنایا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مساجد کی اصل مقام پر تعمیر کیلئے جدوجہد جاری رہے گی۔ سید نظام الدین نے کہا کہ مساجد کے تحفظ کی ذمہ داری وقف بورڈ کی لیکن بورڈ نے مساجد کے انہدام کے خلاف قرارداد تک منظور نہیں کی۔ سمیر ولی اللہ نے کہا کہ بورڈ ارکان کو فوری مستعفی ہونا چاہئے انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ مساجد کے تحفظ کیلئے جمہوری احتجاج منظم ک