کے ٹی آرکو مجسمہ کی تنصیب روکنے کا چیلنج، چوروں اور شرابیوں کے مجسمہ کیلئے کوئی جگہ نہیں، راجیو گاندھی جینتی تقاریب، اہم شخصیتوں کی شرکت
حیدرآباد۔/20 اگسٹ، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اعلان کیا کہ سکریٹریٹ کے روبرو سابق وزیر اعظم آنجہانی راجیو گاندھی کا مجسمہ عنقریب نصب کیا جائے گا اور سکریٹریٹ کے اندرونی حصہ میں تلگو تلی کا مجسمہ نصب ہوگا۔ چیف منسٹر نے آج سوماجی گوڑہ میں آنجہانی راجیو گاندھی کی 80 ویں جینتی تقاریب میں شرکت کرتے ہوئے آنجہانی قائد کے مجسمہ پر گلہائے عقیدت پیش کئے۔ سابق صدر پردیش کانگریس وی ہنمنت راؤ نے اس پروگرام کا اہتمام کیا تھا جس میں سد بھاؤنا رن شامل تھی جس میں تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ راجیو گاندھی جینتی تقاریب میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا، جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ دیپا داس منشی، میئر حیدرآباد وجیہ لکشمی، رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خاں، رکن اسمبلی ڈی ناگیندر، ارکان پارلیمنٹ سی ایچ کرن کمار ریڈی، انیل کمار یادو، سابق رکن اسمبلی جگا ریڈی اور دیگر قائدین نے شرکت کی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کی جانب سے راجیو گاندھی کے مجسمہ کی تنصیب کی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے سخت الفاظ میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹریٹ کے روبرو راجیو گاندھی کے مجسمہ کو نصب کرنے کی صورت میں برسراقتدار آنے پر نکال دینے کی بات کی جارہی ہے۔ بی آر ایس کا اقتدار ختم ہوگیا لیکن قائدین میں غرور و تکبر باقی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کے ٹی آر کو راجیو گاندھی کے مجسمہ سے تکلیف محض اس لئے ہے کہ وہ اپنے والد کا مجسمہ لگانا چاہتے ہیں۔ وہ دنیا سے کب جائیں گے اور مجسمہ کب نصب کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ گاندھی خاندان ملک کو آزادی دینے والا خاندان ہے اور ملک کی سلامتی کیلئے اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے اپنی جان قربان کردی۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر قربان ہونے والی شخصیت راجیو گاندھی کا مجسمہ شہیدان تلنگانہ یادگار کے بازو نصب کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے سخت ریمارک کیا کہ تلنگانہ تحریک کی آڑھ میں تلنگانہ کو لوٹ کر ہزاروں کروڑ کمانے والے اور سینکڑوں ایکر اراضی پر فارم ہاوز تعمیر کرنے والوں کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دن رات شراب نوشی کرنے والے شخص کا مجسمہ لگایا جائے تو بچوں کیلئے کیا مثال پیش ہوگی۔ فارم ہاوز میں صبح سے شام تک شراب نوشی کرنے والے کے سی آر کا مجسمہ لگایا جائے یا پھر ملک پر جان قربان کرنے والے راجیو گاندھی کا مجسمہ ہو، اس کا فیصلہ تلنگانہ سماج کو کرنا چاہیئے۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ اگر ہمت ہو تو راجیو گاندھی کے مجسمہ کے قریب پہنچ کر دکھائیں تو پھر برا حشر ہوگا۔ اپنے والد کے مجسمہ کیلئے ملک پر جان نچھاور کرنے والی شخصیت کا مجسمہ نکالنے کی باتیں افسوسناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی آر ایس کا دوبارہ اقتدار محض ایک خواب ہے اور خواب میں بھی اقتدار نہیں ملے گا۔ اسمبلی چناؤ میں 39 نشستیں حاصل ہوئیں جبکہ پارلیمنٹ میں 7 حلقہ جات میں بی آر ایس کی ضمانت نہیں بچی اور 15 حلقہ جات میں پارٹی تیسرے مقام پر رہی۔ ایسی پارٹی اقتدار میں کیسے واپس آسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دس سال تک اقتدار میں رہے لیکن تلنگانہ تلی مجسمہ کا خیال نہیں آیا اور اب اچانک تلنگانہ تلی سے ہمدردی کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ 9 ڈسمبر 2024 کو سکریٹریٹ کے اندرونی حصہ میں تلنگانہ تلی کا مجسمہ نصب کیا جائے گا۔ 9 ڈسمبر 2009 کو سونیا گاندھی کی قیادت میں اسوقت کی منموہن سنگھ حکومت کے کابینی وزیر پی چدمبرم نے تشکیل تلنگانہ کا اعلان کیا تھا۔ 9 ڈسمبر سونیا گاندھی کی سالگرہ کا دن ہے اور اسی دن سکریٹریٹ کے اندرونی حصہ میں تلنگانہتلی مجسمہ کی تنصیب ہماری ذمہ داری ہے۔ ہماری سنجیدگی پر شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کے ٹی آر کو چیلنج کیا کہ جب بھی راجیو گاندھی کے مجسمہ کے پاس آئیں گے تاریخ کا اعلان کریں وہاں کانگریس سے جگا ریڈی استقبال کریں گے اور اس وقت پتہ چلے گا کہ کیا حشر ہونے والا ہے۔ چیف منسٹر نے تلنگانہ میں کھیل کود کی سرگرمیوں کے فروغ اور نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ینگ انڈیا اسپورٹس یونیورسٹی کے قیام کا تذکرہ کیا اور کہا کہ جنوبی کوریا کے دورہ کے موقع پر انہوں نے دیکھا کہ صرف ایک یونیورسٹی کو 16 میڈل حاصل ہوئے اور ایک خاتون اتھیلیٹ کو 3 گولڈ میڈلس آئے ہیں۔ جنوبی کوریا جیسے چھوٹے ملک کو اولمپکس میں 32 گولڈ میڈلس حاصل ہوئے۔ جنوبی کوریا سے متاثر ہوکر تلنگانہ میں ینگ انڈیا اسپورٹس یونیورسٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تاکہ آئندہ اولمپکس میں تلنگانہ کے کھلاڑیوں کو میڈلس کیلئے تیار کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیت کے اقامتی اسکولوں میں اسپورٹس اکیڈیمی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ینگ انڈیا کا مطلب نئی ریاست تلنگانہ ہے۔ جدوجہد آزادی میں مہاتما گاندھی نے ینگ انڈیا کے نام سے اخبار شائع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کے علاوہ ڈاکٹرس، انجینئرس، سائینٹسٹس، قانون داں کے علاوہ نئی نسل میں ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ تیار کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ اقتدار سے محرومی پر بوکھلاہٹ کا شکار بی آر ایس قائدین اگر اپنا رویہ تبدیل نہ کریں تو عوام سماجی بائیکاٹ پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ شرابیوں اور چوروں کیلئے سکریٹریٹ کے پاس مجسمہ کی جگہ نہیں ہے۔ اگر ایسے افراد کا مجسمہ نصب کیا گیا تو نئی نسل میں یہی خرابی عام ہوگی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ آئندہ 15 تا 20 دنوں میں لاکھوں افراد کی موجودگی میں راجیو گاندھی کے مجسمہ کی نقاب کشائی انجام دی جائے گی۔اس موقع پر چیف منسٹر نے بعض کھلاڑیوں کو ماہانہ وظائف تقسیم کئے۔1