’’سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی‘‘ کے سی آر کو سابق دوستوں سے تلخ تجربہ

   

سوشیل میڈیا میں ویڈیو تیزی سے وائرل، ماموں کہنے والی مقامی جماعت بھی بدل گئی، علاقائی پارٹیوں کے رویہ سے بی آر ایس سربراہ دکھی
حیدرآباد ۔ 3 ۔ مئی (سیاست نیوز) ’’سکھ کے سب ساتھی دکھ میں نہ کوئی ‘‘۔ سیاست میں پارٹی اور قیادت کے ساتھ وفاداریوں کی تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن تلنگانہ میں بی آر ایس کے 10 سالہ اقتدار کے خاتمہ کے ساتھ ہی سابق چیف منسٹر اور پارٹی سربراہ کے چندر شیکھر راؤ خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں کیونکہ 10 برسوں میں ہمیشہ ساتھ نبھانے کا دعویٰ کرنے والے قائدین اور پارٹیاں انجان ہوچکی ہیں۔ انتخابی شکست اور پھر قائدین کے ساتھ چھوڑنے کے صدمہ سے کے سی آر ابھر نہیں پائے تھے کہ شراب اسکام میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سی بی آئی کے مقدمات میں لخت جگر کویتا کو دہلی کی تہاڑ جیل پہنچا دیا۔ کے سی آر کی موجودہ حالت پر سوشیل میڈیا میں ان دنوں دلیپ کمار کی فلم ’’گوپی‘‘ کا مشہور نغمہ وائرل کیا گیا ہے جس میں کے سی آر کو ان کے سابقہ ساتھیوں کے ساتھ خوشگوار موڈ میں دکھایا گیا ہے۔ اقتدار اور کرسی سے محرومی کے ساتھ عام طور پر قریبی افراد دور ہوجاتے ہیں اور اسے سیاسی مبصرین نے برے وقت میں سایہ ساتھ چھوڑ دینے سے تعبیر کیا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں شکست کا کے سی آر کو یقین نہیں تھا لیکن عوام نے انہیں اپوزیشن کا رول ادا کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد کل کے حلیف اچانک حریف بن گئے اور مخالف پارٹی کی دوستی کو اختیار کرلیا۔ کے سی آر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتدار سے محرومی کے بعد پارٹی سربراہ کو اس بات کا شدت سے احساس ہونے لگا ہے کہ اقتدار کے وقت جو علاقائی پارٹیاں ان سے تعاون اور مدد حاصل کرنے کیلئے ہمیشہ ربط میں رہا کرتی تھیں، آج وہ انجان ہیں۔ نہ صرف تلنگانہ بلکہ دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والی علاقائی پارٹیوں نے لوک سبھا الیکشن میں بی آر ایس سے فاصلہ بنالیا ہے۔ بعض ارکان اسمبلی نے ساتھ چھوڑ دیا جبکہ کئی قریبی اور بااعتماد قائدین نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر کانگریس میں واپسی کی تیاری کرلی ہے۔ پارٹی کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر کے کیشو راؤ اور ان کی دختر میئر حیدرآباد وجئے لکشمی کی کانگریس میں شمولیت نے کے سی آر کو دکھی کردیا ہے۔ عوامی نمائندوں اور قریبی افراد کے پارٹی چھوڑنے کی وجوہات بھلے ہی کچھ ہوں لیکن ہر ایک کا موقف جداگانہ ہے ۔ کے سی آر کے قریبی ساتھی اسے دھوکہ دہی سے تعبیر کر رہے ہیں جبکہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والوں میں پارٹی سربراہ کے رویہ کی شکایت کی ہے۔ کے سی آر نے قومی سطح پر تیسرے محاذ کی تیاریوں کے لئے کئی علاقائی پارٹیوں سے ربط قائم کیا تھا ۔ کرناٹک کی جنتادل سیکولر ، یو پی میں سماج وادی پارٹی ، بہوجن سماج پارٹی ، ٹاملناڈو میں ڈی ایم کے ، دہلی میں عام آدمی پارٹی ، مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور مہاراشٹرا میں این سی پی کے قائدین سے کے سی آر نے ملاقاتیں کی تھیں اور ان میں سے بعض قائدین نے حیدرآباد پہنچ کر کے سی آر کی مساعی کی تائید کی تھی۔ الیکشن میں شکست کے بعد بتایا جاتا ہے کہ علاقائی پارٹیاں ربط میں نہیں ہیں اور ہر کسی نے اپنا راستہ چن لیا ہے۔ کرناٹک کی جنتادل سیکولر کے بارے میں بی آر ایس قائدین کا کہنا ہے کہ کے سی آر نے کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں کمارا سوامی کی کافی مدد کی تھی۔ چناوی شکست کے بعد کویتا کے جیل جانے کے معاملہ تک کے سی آر کو علاقائی پارٹیوں سے شکایت ہے کہ کسی نے بھی کویتا کی گرفتاری کی مذمت نہیں کی اور نہ ہی بی آر ایس کے ساتھ اخلاقی ہمدردی کا اظہار کیا۔ کے سی آر کو حیدرآباد کی مقامی حلیف مجلس سے دلی تکلیف پہنچی جس نے الیکشن کے فوری بعد کے سی آر کا دامن چھوڑ کر ریونت ریڈی کا ہاتھ تھام لیا ہے۔ مجلس کے صدر اسد اویسی کا ویڈیو بھی سوشیل میڈیا میں تیزی سے وائرل ہورہا ہے جس میں انہوں نے کے سی آر کے زندہ رہنے تک ان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا ۔ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی تشکیل کے فوری بعد مجلس نے کانگریس سے نہ صرف دوستی کرلی بلکہ لوک سبھا چناؤ میں کانگریس امیدواروں کی تائید میں مہم چلائی جارہی ہے۔ اقتدار کے 10 برسوں تک مجلسی قیادت نے کے سی آر حکومت سے اپنے کئی مطالبات کو تسلیم کرایا جن میں زیادہ تر ذاتی منفعت کے امور بتائے جاتے ہیں ۔ اسمبلی الیکشن کی انتخابی مہم میں صدر مجلس اور اسمبلی میں فلور لیڈر نے کے سی آر کو ’’ماموں‘‘ کا درجہ دیتے ہوئے عوام سے ووٹ دینے کی اپیل کی تھی جبکہ ریونت ریڈی کو آر ایس ایس انا اور آر ایس ایس کا ٹلو جیسے نام دیئے گئے لیکن انتخابی نتائج کے فوری بعد ریونت ریڈی کی کھل کر تعریف کی جارہی ہے ۔ موجودہ سیاسی حالات اور قریبی افراد کی بے وفائی نے کے سی آر کو دکھی کردیا ہے اور آئندہ وہ کسی پر آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتے۔ ان تمام تبدیلیوں کے ساتھ ویڈیو وائرل کیا گیا جس کے پس منظر میں محمد رفیع کا گایا ہوا مشہور نغمہ گونج رہا ہے جو ہر اس شخص کے دل کو چھو رہا ہے جنہیں قریبی افراد سے تلخ تجربہ ہوا ہو۔ 1