خبروں کی صداقت صحافت کی اصل جان، مانو میں اُردو صحافیوں کا صلاحیت سازی ورکشاپ، پروفیسر عین الحسن، ڈاکٹر شمس اقبال اور سرفراز سیفی کا بھی خطاب
حیدرآباد 23 ستمبر (سیاست نیوز) جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست نے صحافیوں بالخصوص سوشل میڈیا سے وابستہ افراد کو عصری ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لئے میڈیا انکیوبیٹر کے قیام کا اعلان کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ملک کے نامور صحافیوں کے ذریعہ اخبارات، الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے 10 مختلف پلیٹ فارمس کے صحافیوں کو جدید ٹیکنالوجی کی ٹریننگ دی جائے گی تاکہ وہ اپنے اپنے میدانوں میں پیشہ صحافت سے انصاف کرسکیں۔ جناب عامر علی خاں آج مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی میں اُردو صحافیوں کے سہ روزہ صلاحیت سازی ورکشاپ سے خطاب کررہے تھے۔ اُردو یونیورسٹی اور قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان نے مشترکہ طور پر ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن، ڈاکٹر سرفراز سیفی سی ای او بھارت نیوز نیٹ ورک دہلی، ڈاکٹر محمد شمس اقبال ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اُردو زبان، ڈاکٹر یامین انصاری ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ انقلاب دہلی اور دوسروں نے ورکشاپ سے خطاب کیا۔ جناب عامر علی خاں نے ٹریننگ ورکشاپ کو سوشل میڈیا کے دور میں ایک اہم ضرورت قرار دیا اور کہاکہ آرٹیفیشل انٹلی جنس اور دیگر عصری ٹیکنالوجی سے یو ٹیوب صحافیوں کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ صحافت کے ذریعہ نہ صرف روزگار حاصل کیا جاسکتا ہے بلکہ صحافی خود بھی دوسروں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ میڈیا صرف صحافت نہیں ہے بلکہ کارپوریٹ اداروں میں بھی صحافت کی ڈگری سے اہم عہدے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ بی سی جے اور ایم سی جے کی ڈگری کے ساتھ کارپوریٹ اداروں میں پبلک ریلیشن ڈپارٹمنٹ میں روشن مستقبل کے امکانات ہیں۔ جناب عامر علی خاں نے کہاکہ ہندوستان سیکولر ملک ہے لیکن حالیہ چند برسوں میں دنیا بھر میں ہندوستان کی شبیہ متاثر ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت اور اُس کے عہدیدار محسوس کررہے ہیں کہ عرب دنیا سے تعلقات کو مستحکم بنانے کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 33 فیصد ویمنس ریزرویشن سے خواتین کو فائدہ ہوگا۔ جناب عامر علی خاں نے آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس جیسے کورسیس میں اقلیتوں کو دلچسپی لینے کا مشورہ دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی حکومت نے مسلم اور عرب ممالک سے تجارتی تعلقات استوار کرنے کی مساعی شروع کی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ صحافی ہر کوئی بن سکتا ہے لیکن پیشہ کے ساتھ انصاف وہی کرسکتا ہے جو جنون کی حد تک آگے بڑھے۔ سیاست میڈیا انکیوبیٹر کا حوالہ دیتے ہوئے جناب عامر علی خاں نے کہاکہ یہ ہندوستان کا پہلا میڈیا انکیوبیٹر رہے گا۔ اُنھوں نے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعہ جرنلزم، سوشل میڈیا کے علاوہ اڈورٹائزنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے شعبہ جات میں تربیت کی جائے گی۔ اُنھوں نے اُردو یونیورسٹی سے خواہش کی کہ وہ سیاست انکیوبیٹر سے اپنے طلبہ کو جوڑیں تاکہ وہ بہتر مستقبل کو یقینی بناسکیں۔ جناب عامر علی خاں نے کہاکہ اُردو یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے فارغین کے لئے انٹرن شپ یا ملازمت کے لئے سیاست کے دروازے کھلے ہیں۔ ڈاکٹر محمد شمس اقبال ڈائرکٹر قومی کونسل برائے فروغ اُردو نے کہاکہ صحافیوں کی تربیت کے لئے کونسل سنجیدہ ہے۔ اُ۔ھوں نے کہاکہ اُردو یونیورسٹی کے اشتراک سے صحافیوں کے لئے ورکشاپ کا انعقاد باعث مسرت ہے۔ بدلتے حالات اور چیالنجس سے نمٹنے کے لئے صحافیوں کی مؤثر انداز میں تربیت ناگزیر ہے تاکہ وہ دیگر زبانوں کے صحافیوں سے مسابقت کرسکیں۔ وائس چانسلر پروفیسر سید عین الحسن نے کہاکہ پیشہ صحافت میں نئے چیالنجس درپیش ہیں جن کا سامنا کرنے کے لئے اُردو صحافیوں کو تیار کرنا ضروری ہے۔ اُنھوں نے کارگذار صحافیوں اور صحافت کے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی لسانی صلاحیتوں کو نکھاریں تاکہ صحافتی میدان میںترسیل کا عمل کامیاب ہوسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ صحافی کو حقیقی اور تحقیق شدہ معلومات عوام تک پہونچانی چاہئے کیوں کہ خبروں کی صداقت ہی صحافت کی اصل جان ہے۔ ڈاکٹر سرفراز سیفی نے کہاکہ اُردو کسی مذہب کی زبان نہیں بلکہ ہندوستان کی مشترکہ تہذیب و کلچر کی علامت ہے۔ اُنھوں نے صحافت کے طلبہ سے فعال اور جنون کی حد تک کام کرنے کا مشورہ دیا۔ اِس موقع پر اُردو یونیورسٹی کے ترجمان ’الکلام‘ کے 34 ویں شمارے کی رسم اجراء انجام دی گئی۔ ورکشاپ کے مختلف سیشن منعقد ہوئے جس میں نامور صحافیوں نے حصہ لیا۔1