جمعہ کو 22 میتوں کی تدفین ، عثمانیہ ہاسپٹل ، گاندھی ہاسپٹل ، اولڈ ایج ہومس اور گرجا گھروں سے میتوں کا حصول
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : کیا کوئی مسلمان یہ چاہے گا کہ ایک مسلم میت کو تجہیز و تکفین کی بجائے اس کی آخری رسومات کسی شمشان گھاٹ میں انجام دی جائے ۔ اس کی میت کو تدفین کی بجائے اسے نذر آتش کیا جائے ۔ ہرگز ہرگز نہیں ایسا ہی کچھ سال 2003 میں ہوا تھا جب شمشان گھاٹ میں ایسی چار نامعلوم نعشوں کو منتقل کر کے نذر آتش کیا جانے والا تھا جن میں ایک مسلم نوجوان کی میت بھی تھی جب اس کی اطلاع ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کو ملی تو انہوں نے فوری اس وقت ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس سید زاہد حسین کو ہدایت دی کہ وہ مسلم نامعلوم میت کو حاصل کر کے روزنامہ سیاست کے حوالے کردیں اور پھر ویسا ہی ہوا روزنامہ سیاست نے اُس نامعلوم مسلم میت کی پورے احترام کے ساتھ باوقار انداز میں تجہیز و تکفین کا اہتمام کیا ۔ نماز جنازہ اور تدفین میں مسلمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ جناب زاہد علی خاں نے اس وقت کے کمشنر پولیس حیدرآباد کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے لاوارث مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین کی ذمہ داری روزنامہ سیاست کے ملت فنڈ کو تفویض کرنے کی درخواست کی جس کے بعد سے اب تک 5111 نامعلوم مسلم میتوں کی تجہیز و تکفین انجام دی گئی ۔ چنانچہ آج صرف ایک دن میں 22 نامعلوم مسلم میتوں کی تجہیز و تکفین کی گئی ۔ ان میتوں کی تدفین قبرستان سکندرآباد میں عمل میں آئی ۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس قبرستان کے متولی ہمیشہ ریاکاری سے دور رہے ، انہوں نے کبھی اپنا نام تک ظاہر ہونے نہیں دیا ۔ بہر حال مولانا سید خواجہ معز الدین اشرفی خلیفہ علامہ مدنی میاں اشرف الجیلانی نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ مولانا سید حفیظ اشرفی امام و خطیب جامع مسجد محمدیہ کشن باغ نے دعا کی ۔ سید زاہد حسین سابق اسسٹنٹ انسپکٹر کے مطابق اب تک جن 5111 نامعلوم مسلم میتوں کی تجہیز و تکفین کی گئی ان میں مردوں کی اکثریت تھی جب کہ خواتین اور چھوٹے و شیر خوار بھی شامل ہیں ۔ 2003 کو پہلی نامعلوم مسلم میت کی تدفین عنبر پیٹ میں ادا کی گئی تھی ۔ حال ہی میں بنگلہ دیش کے ایک نوجوان کی تدفین بھی سیاست ملت فنڈ کی جانب سے انجام دی گئی ۔ اس کار خیر میں جناب سید عبدالمنان اور ان کی اہلیہ بشریٰ تبسم ( یہ دونوں کافی تعداد میں کفن فراہم کرتے ہیں ) ، محمد عبدالجلیل ، محمد شجاعت عطاری بالاپور ، سید امیر الدین کشن باغ ، خواجہ حمید الدین جہاں نما ، سید زبیر ہاشمی ، محمد معین الدین ، عبدالجبار ، محمد عنایت ( دونوں عثمانیہ ہاسپٹل ) ، محمد امجد ( گاندھی ہاسپٹل ) ، ڈاکٹر محمد تقی الدین ، سید امجد علی ، محمد عبدالرزاق ریٹائرڈ پولیس آفیسر ، رضوان بیگ ایڈیشنل ڈی سی پی ، شیخ عبدالعزیز صدر قبرستان و عیدگاہ مسجد محمدیہ کوکٹ پلی ، خواجہ نعیم الدین ، کلیم الدین ، محمد عبدالبشیر اور ان کی اہلیہ عالیہ بیگم شامل ہیں ۔ واضح رہے کہ ہر میت کی تجہیز و تکفین پر 3500 تا 4000 روپئے کے مصارف آتے ہیں ۔۔