٭ علماء و مشائخین اور ہمدردان ملت کا مثالی تعاون
٭ ایڈیٹر’سیاست‘ جناب زاہد علی خان کے حق میں دعا
حیدرآباد: کیا کوئی مسلمان اپنے مسلم بھائی یا بہن کی میت کی پروقار انداز میں تجہیز و تکفین کی بجائے نذر آتش کے بجائے دوردراز کچہرے کے انبار میں دبائے جانے یا طبی تجربات کیلئے نعشیں استعمال کرنے کی اجازت دیگا اور اس طرح کے حالات کو گوارا کرے گا؟ ہرگز نہیں۔ ایسا ہی کچھ سال 2003 میں ہوا جب ایڈیٹر’سیاست‘ جناب زاہد علی خاں دفتر ’سیاست‘ میں اپنے اجلاس میں بیٹھے چند اہم شخصیتوں سے ملی مسائل اور ان کے حل پر تبادلہ خیال کررہے تھے کہ اپنے دل میں ملی درد رکھنے والے ایک مسلم پولیس ملازم وہاں پہنچا اور اس نے ایڈیٹر ’سیاست‘ کو بتایا کہ لاوارث مسلم نعشوں کو پورے احترام کے ساتھ تجہیز و تکفین کی بجائے سپرد آگ کیا جارہا ہے یا پھر منوں ٹن کچہرے کے ڈھیر میں بیدردی سے دبایا جارہا ہے۔ ایسی بھی نعش اس نے دیکھی جنہیں طبی تجربات کیلئے میڈیکل کالجس کے حوالے کیا جارہا ہے جہاں ان کی بوٹی بوٹی الگ کی جاتی ہے۔ پولیس ملازم کے اُس انکشاف نے جناب زاہد علی خاں کو پریشان کردیا اور انہوں نے اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ لاوارث مسلم نعشوں کی پورے احترام کے ساتھ تجہیز و تکفین کا اہتمام کیا جائے گا۔ ابتداء میں انہوں نے اپنی جیب سے مسلم لاوارث نعشوں کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا اور بعد میں سیاست ملت فنڈ نے یہ ذمہ داری نبھائی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ کل قبرستان تھرتھرے شاہ سکندرآباد میں9 لاوارث مسلم نعشوں کی تدفین عمل میں لائی گئی جس کے ساتھ ہی سیاست ملت فنڈ کی جانب سے کی گئی لاوارث مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین کی تعداد 4780 ہوگئی جن میں بوڑھے، جوان، خواتین، نومولود بچے سب شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کل جن 9 میتوں کی تجہیز و تکفین عمل میں آئی ان کی نماز جنازہ حضرت مدنی میاں صاحب مدظلہ کے خلیفہ مولانا معز الدین اشرفی نے پڑھائی جبکہ مولانا عبدالحفیظ امام و خطیب جامع مسجد محمدیہ کشن باغ نے مغفرت کی دعا کی۔ مولانا معز الدین اشرفی نے ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم بیان کیا جو اس طرح ہے ’ ایک مسلم میت بغیر نماز جنازہ دفن ہوجائے تو سارا محلہ گناہ گار ہوگا۔‘ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی میتوں کی تجہیز و تکفین بڑی ذمہ داری ہے اور بہت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ سیاست ملت فنڈ کی ایک ٹیم سید زاہد حسین کی قیادت میں کام کرتی ہے۔ اللہ عزوجل اس ٹیم سے غیر معمولی کام لے رہے ہیں جس کیلئے جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔ حیدرآباد و سکندرآباد اور مضافاتی علاقوں میں کوئی بھی لاوارث مسلم نعش دستیاب ہوتی ہے تو محکمہ پولیس اس کی اطلاع فوری نیوز ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب عامر علی خاں کو دیتا ہے جس کے ساتھ ان لاوارث مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین کا انتظام کیا جاتا ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ سیاست ملت فنڈ کو عثمانیہ جنرل اسپتال اور گاندھی اسپتال کے مردہ خانوں کے ساتھ گرجا گھروں کے تحت چلائے جانے والے اولڈ ایج ہومس ، ٹی بی اسپتال ایرہ گڈہ وغیرہ سے لاوارث مسلم نعشیں حاصل ہوتی ہیں جنہیں پورے احترام کے ساتھ قبرستان جان اللہ شاہ افضل گنج، کوکٹ پلی قبرستان ، تھرتھرے شاہ قبرستان، ایرا گڈہ قبرستان، پہاڑی شریف کے قریب واقع قبرستان ، کاروان قبرستان، دائرہ میر مومن، ٹپہ چبوترہ قبرستان، قبرستان گولی پورہ میں تدفین عمل میں لائی جاتی ہے۔ اللہ عزوجل جن شخصیتوں سے یہ کام لے رہا ہے ان میں سید زاہد حسین، سید زبیر ہاشمی، سید عبدالمنان، محمد عبدالجلیل، سمیع اللہ خان ( مسجد سنی پورہ )، محمد جعفر، محمد افسر، عنایت اللہ خان، محمد عبدالجبار، محمد اقبال المعروف بابا جان، شیخ عبدالعزیز ( کوکٹ پلی) ، عثمان الحاجری اور محترمہ بشریٰ تبسم کے ساتھ محترمہ سیدہ فہیم النساء شامل ہیں۔ آپ کو یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ حضرت مولانا حمید الدین عاقل حسامی، حضرت مولانا قبول بادشاہ شطاری، مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ نظامیہ، حافظ محمد خواجہ نذیر الدین سبیلی ناظم جامعہ عائشہ نسواں، الحاج سید نور الدین شاہ قادری بانی مسجد عرفات ایس آر ٹی کالونی یاقوت پورہ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جیسی شخصیتوں نے ان مسلم نعشوں کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ حالیہ عرصہ میں جبکہ سارا ملک کورونا سے متاثر ہے 100 سے زائد لاوارث مسلم نعشوں کی تجہیز و تکفین سیاست ملت فنڈ نے انجام دی ہے۔ واضح رہے کہ جب ان مرحومین کے ورثاء کو پتہ چلتا ہے تو وہ مختلف قبرستانوں پر پہنچ کر اپنے مرحومین کیلئے دعا کرتے ہیں اور سیاست ملت فنڈ کے ذمہ داروں کے حق میں بھی بارگاہ رب العزت میں دعا گو رہتے ہیں۔