سیف آباد منٹ میوزیم عوام کی توجہ کا مرکز

   

نظام دور حکومت اور آزادی کے بعد سکوں کی تیاری، 2022 میں میوزیم کا قیام
حیدرآباد۔ 10 جون (سیاست نیوز) سیف آباد میں واقع منٹ میوزیم عوام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ رائیل منٹ آف نظام کی یہ تاریخی عمارت کئی برسوں تک بھوت بنگلہ دکھائی دے رہی تھی اور عمارت کے تحفظ اور تزئین نو پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ آزادی کا امرت مہااتسو پروگرام کے تحت 2022 میں اس تاریخی عمارت کی تزئین نو کے بعد سیف آباد منٹ میوزیم کے طور پر افتتاح عمل میں آیا۔ منٹ میوزیم حیدرآبادی عوام کے لئے کئی تاریخی شواہد کی پیشکشی کا اہم ذریعہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 1803 میں پہلی مرتبہ رائیل منٹ کا پرانے شہر حیدرآباد کے رائیل پیالس میں قیام عمل میں آیا۔ منٹ میں ہاتھ سے تیار کردہ سکے بنائے جاتے تھے بعد میں 1893 میں رائیل منٹ کو دارالشفاء کی عمارت میں منتقل کیا گیا۔ 1903 میں اس وقت کے نظام میر محبوب علی خاں نے برطانیہ کی عصری ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعہ مشین سے سکوں کی تیاری کو منظوری دی۔ برطانیہ سے ایک مشین درآمد کی گئی جسے نئے منٹ کمپاؤنڈ میں نصب کیا گیا۔ نیا منٹ کمپاؤنڈ سیف آباد میں منتقل ہوچکا تھا۔ رائیل منٹ آف حیدرآباد ملک کا پہلا منٹ ہے جو مشین سے سکے تیار کرتا رہا۔ سکوں کی تیاری کے علاوہ منٹ میں عوام کے لئے لاکر کی سہولت موجود تھی۔ جوڈیشل اسٹامپ، چیک فارمس، لفافوں کی پرنٹنگ، اسٹامپ پریس میں انجام دی جاتی رہی۔ حسین ساگر جھیل کے کنارہ پر واقع رائیل منٹ 3 ایکر اراضی پر محیط ہے۔ یوروپین منٹ کے طرز تعمیر سے متاثر ہوکر اسے تعمیر کیا گیا۔ 1950 تک نظام میر عثمان علی خاں کے نام سے سکے تیار کئے جاتے رہے۔ حیدرآباد اسٹیٹ کے انڈین یونین میں انضمام کے بعد رائیل منٹ نے ہندوستانی حکومت کے سکوں کی تیاری کا کام 1990 تک جاری رہا۔ نوئیڈا، کولکتہ اور ممبئی کے منٹس کے ساتھ حیدرآباد میں سکے تیار کئے جاتے رہے۔ رائیل منٹ میں سکوں کے علاوہ مڈل، سوینیرس اور بیاجس تیار کئے گئے۔ 1997 میں منٹ کو چرلا پلی منتقل کیا گیا اور منٹ کمپاؤنڈ سیف آباد کی عمارت بند کردی گئی۔ عمارت کی خستہ حالی کو دور کرتے ہوئے اسے میوزیم میں تبدیل کیا گیا۔ منٹ کی بحالی کا کام انٹاچ اور آئی جی ایم ایچ کے اشتراک سے مکمل کیا گیا۔ میوزیم کے تحت کامپلکس کا صرف 10 فیصد حصہ عوام کے لئے کھولا گیا ہے۔ آئی جی ایم ایچ کی جانب سے مکمل کامپلکس کو عوام کے لئے کھولنے کے اقدامات جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو منٹ کامپلکس کے تحفظ کے لئے اقدامات کرنے چاہئے۔ 1؍F m/b/