شان رسالتؐ میں گستاخی کیخلاف ملین مارچ منسوخ

   

18 جون کو چنچل گوڑہ کالج گراؤنڈ پر احتجاجی جلسہ عام کی اجازت : محمد مشتاق ملک

حیدرآباد : /15 جون (سیاست نیوز) ملک بھر میں موجودہ لا اینڈ آرڈر صورتحال کے پیش نظر /18 جون کو شہر میں منعقد ہونے والے ملین مارچ پروگرام کو منسوخ کردیا گیا ہے اور اس کے بجائے جلسہ عام منعقد کیا جائے گا ۔ صدر تحریک مسلم شبان محمد مشتاق ملک نے آج بتایا کہ پولیس کی جانب سے ملین مارچ کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور ملک بھر میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے لا اینڈ آرڈر کے واقعات کے پس منظر میں چنچل گوڑہ جونیر کالج میں ایک بڑا جلسہ عام منعقد کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ /18 جون بروز ہفتہ دھرنا چوک اندرا پارک کے قریب تحریک مسلم شبان اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے شان رسالتؐ میں گستاخی کرنے والی نوپور شرما اور دیگر کے خلاف ملین مارچ پروگرام کا انعقاد عمل میں لایا جارہا تھا لیکن پولیس نے اس کی اجازت دینے سے انکار کردیا جبکہ اسی دن چنچل گوڑہ جونیر کالج میں جلسہ عام کی اجازت دیدی گئی ہے جو شام 7 تا رات 10 بجے تک رہے گا۔ قبل ازیں حیدرآباد پولیس نے مشتاق ملک اور دیگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان کو ان کے مکانات میں نظربند رکھا تھا ۔ آج شام پولیس عہدیداروں سے بات چیت کے بعد جلسہ عام کی اجازت دیدی گئی ہے ۔ سوشیل میڈیا پر ملین مارچ میں شامل ہونے کی اپیل کے نتیجہ میں چادر گھاٹ پولیس نے صدر تحریک مسلم شبان کے خلاف تعزیرات ہند کے دفعات 153A ، 295A اور 505(2) کے تحت ایک مقدمہ درج کیا تھا ۔ اس کارروائی میں پولیس نے مشتاق ملک پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ مبینہ طور پر دونوں فرقوں کے درمیان منافرت پھیلانے والے بیانات سوشیل میڈیا کے ذریعہ جاری کررہے ہیں اور ملین مارچ سے لا اینڈ آرڈر کا خطرہ لاحق ہے ۔ پولیس نے ایف آئی آر میں یہ بھی ذکر کیا کہ سی اے اے اور این آر سی کے احتجاج کیلئے 2019 ء میں ایک ملین مارچ منعقد کیا گیا تھا جس میں مشتاق ملک نے تلنگانہ ہائیکورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کی تھی اور ہزار افراد کے بجائے لاکھوں افراد اس مارچ میں شامل ہوئے تھے جس سے عوام کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اس سلسلہ میں ان کے خلاف شہر کے مختلف پولیس اسٹیشن میں 24 مقدمات درج کئے گئے ہیں جو زیرالتواء ہیں ۔ ب