محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ وقف بورڈ کی خاموشی پر مصلیوں کا سخت ردعمل
محمد مبشر الدین خرم
حیدرآباد۔13جنوری ۔ریاستی حکومت معاشی بدحالی کا شکار اگر ہے تو یہ اعلان کردے کہ وہ شاہی مسجد باغ عامہ کے شیڈ کی تعمیر کے لئے بجٹ جاری نہیں کرسکتی ‘ مصلیان شاہی مسجد باغ عامہ مسجد میں جمعہ کے موقع پر چندہ اکٹھا کرتے ہوئے مسجد کے شیڈ کی تعمیر کے کامو ںکو مکمل کرلیں گے۔ شاہی مسجد باغ عامہ کے تزئین ‘ تعمیری اورآہک پاشی کے کاموں کومکہ مسجد کے کاموں کی طرح لیت و لعل کا شکار ہونے نہیں دیا جاسکتا کیونکہ مسجد کے صحن میں برسوں سے موجود شیڈ کو کھول دیا گیا ہے اور مصلیوں کو دھوپ‘ بارش‘ سردی ہر موسم میں زیر سماں نماز ادا کرنی پڑرہی ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود اور تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے شاہی مسجد باغ عامہ کے ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں متعدد اعلانات کئے جاتے رہے ہیںاور گذشتہ ایک سال سے ان کاموں کے آغاز کے متعلق کہا جاتا رہا ہے لیکن چند ماہ قبل شاہی مسجد باغ عامہ کے شیڈ کی تبدیلی اور بہتر انداز میں نئے شیڈ کی تنصیب کے علاوہ ‘فرش کی تعمیر اور معمولی توسیع کے سلسلہ میں تلنگانہ ریاستی وقف بورڈ کی جانب سے 75 لاکھ روپئے کی اجرائی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں تخمینہ میں تبدیلی کے ذریعہ اسے 42لاکھ تک محدود کردیا گیا ہے جبکہ صدرنشین تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ الحاج محمد سلیم نے مجموعی اعتبار سے 1.5کروڑ کے ترقیاتی کاموں کو منظوری دینے کا وعدہ کیا تھا اور کہا کہ پہلے مرحلہ میں 75لاکھ روپئے کے کام مکمل کئے جائیں گے لیکن محکمہ میں موجود عہدیداروں کی جانب سے اس میں تخفیف کرتے ہوئے اسے 42لاکھ کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اس سے زائد رقم جاری کرنے سے واضح انکار کیا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ 42لاکھ میں جو کام مکمل ہوئے ہیں وہ کافی ہیں مابقی کام کے لئے کوئی رقم جاری نہیں کی جائے گی۔ شاہی مسجد کے باغ عامہ کے مستقل مصلیوں میں شہر حیدرآباد کی کئی سرکردہ شخصیات اور عہدیداروں کے علاوہ سیاسی قائدین موجود ہیں جو کہ مسجد کے کاموں پر روک لگائے جانے پر حیرت زدہ ہیں ۔ مستقل مصلیوں کا کہناہے کہ اگر اندرون ایک ہفتہ محکمہ اقلیتی بہبود یا وقف بورڈ کی جانب سے رقومات کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں مصلیان مسجد اپنے طور پر چندہ کرتے ہوئے مسجد کے تعمیری‘ مرمتی اور ترقیاتی کاموں کو مکمل کرلیں گے اور ایسا کرنے سے انہیں کوئی روک نہیں سکتا۔ مصلیان نے یاددہانی کروائی کہ سابق میں جس وقت جناب محمد احمد اللہ حکومت آندھراپردیش میں وزیر اقلیتی بہبود ہوا کرتے تھے اس وقت شاہی مسجد باغ عامہ کے ساؤنڈ سسٹم کی تبدیلی کے لئے کی جانے والی درخواستوں کو محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مسلسل نظرانداز کئے جانے پر مصلیان نے وزیر کی موجودگی میں ہی بطور احتجاج چندہ وصول کرنا شروع کردیا تھا۔ مرزا اجمل بیگ مصلی شاہی مسجد باغ عامہ نے بتایاکہ حکومت کی جانب سے چند ماہ قبل مسجد کے صحن میں موجود شیڈ کو کھولا گیا لیکن اب تک کاموں کی تکمیل نہیں کی گئی جس کے سبب مصلیوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اگر محکمہ اقلیتی بہبود یا ریاستی حکومت کے پاس شاہی مسجد کے مرمتی و ترقیاتی کاموںکے لئے پیسہ نہیں ہے تو یہ اعلان کردیا جائے مصلیان اپنے طور پر ان کامو ںکو مکمل کروالیں گے۔ جناب صفدر محی الدین ہاشمی ساکن ریڈہلز نے بتایا کہ وہ فجر اور عصر شاہی مسجد باغ عامہ میں ادا کرتے ہیں اور مسجد کے ٹین شیڈ کھولے جانے کے بعد انہیں یہ خوشگوار احساس پیدا ہوا تھا کہ مرحوم عابد علی خان بانی روزنامہ سیاست کے سانحۂ ارتحال کے بعد جو شیڈ نصب کیا گیا تھا اسے کھول کر اب نیا شیڈ نصب کیا جا رہاہے لیکن کئی ماہ گذرجانے کے باوجود ان کاموں کی عدم تکمیل مصلیوں میں مایوسی اور برہمی کا سبب بن رہی ہے۔ جناب سید حسین نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے مکہ مسجد کے کامو ں کو جس طرح سے لیت و لعل کا شکار بنایا جارہا ہے اسی طرح سے شاہی مسجد کے ترقیاتی کاموں کے متعلق رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن شاہی مسجد باغ عامہ میں صرف شیڈ کھولے جانے سے جو تکالیف کا سامنا مصلیوں کو کرنا پڑرہا ہے اس کا ان عہدیداروں کو احساس نہیں ہے جو رقوما ت کی اجرائی سے انکار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عہدیدار ان رقومات کی اجرائی سے انکار کر رہے ہیںتو ایسی صورت میں حکومت میں شامل مسلم نمائندے کیوں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔م