شخصی آزادی میں مداخلت کیوں ؟

   

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیئے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا
بہار کے جموئی ضلع میں ایک لڑکی اور لڑکے کو مارپیٹ کا نشانہ بنانے اور لڑکی کے ساتھ بدتمیزی اور مبینہ دست درازی کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے اور اس نے سوشیل میڈیا پر خاصی تو جہ حاصل کرلی ہے ۔ اس طرح کے واقعات اکثر و بیشتر دیکھنے میں آ رہے ہیں اور نوجوانوں کو جو کہیں گھومنے پھرنے جاتے ہیں اس طرح کے حملوں کا نشانہ بناتے ہوئے ان کی شخصی آزادی میں مداخلت کی جا رہی ہے ۔ یہ درست ہے کہ تہذیبی روایات وغیرہ کی پاسداری کی جانی چاہئے اور عوامی مقامات پر حدود کا پورا خیال رکھا جانا چاہئے تاہم کسی کو بھی کسی کی شخصی آزادی میں مداخلت کا کوئی اختیار اور حق حاصل نہیں ہے ۔ جموئی میں جس طرح سے لڑکی کے ساتھ سلوک کیا گیا وہ انتہائی افسوسناک بلکہ شرمناک بھی کہا جاسکتا ہے ۔ جس طرح سے لڑکی کو اس کے ساتھی سے الگ کیا گیا اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی گئی وہ قابل مذمت ہے ۔ ساتھ ہی ساتھی لڑکے کو بھی مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ دونوں دوست تھے اور وہ دونوں ہی کچھ تصاویر بنوانے کیلئے اس مقام پر گئے تھے جہاں انہیں نشانہ بنایا گیا ہے ۔ کچھ تنظیموں اور نوجوانوں کی جانب سے سارے ملک پر ایک سوچ اور نظریہ کو مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ اعلان کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں کی جاتی رہیں گی ۔ اترپردیش میں جس وقت سے آدتیہ ناتھ چیف منسٹر بنے ہیں انہوں نے تو باضابطہ سرکاری طور پر اینٹی رومیو اسکواڈز بنادئے تھے ۔ اس کا اثر کئی مقامات پر دیکھا جا رہا ہے کہ جہاں ہندوتوا کارکنوں کی جانب سے نوجوانوں کو حملوں کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جا رہا ہے ۔ کچھ مخصوص مواقع پر تو اس طرح کی کارروائیاں بہت زیادہ کی جاتی ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس اہلکاروں اور مشنری کی جانب سے ان واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہیںکئے جاتے ۔ پولیس اگر اس طرح کے معاملات میں بروقت اور موثر کارروائی کو یقینی بنائے تو کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی جراء ت نہیںہوگی اور ایسے واقعات کا تدارک ہوسکے گا ۔
ویسے تو ملک میں اس طرح کے کئی اور بے شمار واقعات پیش آتے ہیں اور ان کا کوئی نوٹس نہیں لیتا ۔ کسی وقت کوئی واقعہ اچانک ہی وائرل ہوجاتا ہے اور پھر اس پر سوشیل میڈیا پر مباحث شروع ہوجاتے ہیں۔ عوام اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہیں اور مختلف تبصرے بھی کئے جاتے ہیں۔ پولیس کی جانب سے کسی ایک واقعہ میں علامتی کارروائی بھی ہوتی ہے لیکن اس طرح کے واقعات کے ذمہ دار جب جیلوں سے واپس آتے ہیں اور انہیں ضمانت ملتی ہے تو ان کا ہیرو کی طرح خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی غلط حرکتوں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے جو عناصر ہیں ان کے حوصلے بلند ہوتے چلے جا رہے ہیں اور وہ قانون کو خاطر میں لانے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں۔ جموئی میں پیش آنے والا واقعہ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے اور یہاں بھی پولیس کی جانب سے محض عوامی برہمی کو دیکھتے ہوئے کارروائی کی گئی ہے اور تین افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے ۔ جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس میں کئی افراد موجود دکھائی دے رہے ہیں لیکن پولیس نے تین کو حراست میں لیا ہے ۔ اس طرح کے جو معاملات ہیں ان میںپولیس کو چوکسی دکھانے کی ضرورت ہے ۔ عوامی مقامات پر کسی کو بھی قانون ہاتھ میںل ینے کا موقع دئے بغیر پولیس کی موجودگی میںاضافہ کیا جانا چاہئے اور سیر و تفریح کیلئے آنے والے افراد کی سکیوریٹی اور سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے موثر اور بہتر انتظامات و بندوبست کیا جانا چاہئے ۔
جموئی واقعہ ایک بار پھر یہ واضح کرتا ہے کہ ملک بھر میں انتہاء پسندانہ سوچ رکھنے والے عناصر غلبہ حاصل کرتے جا رہے ہیں اور ان پر موثر روک نہیںلگائی جا رہی ہے ۔ ایسے عناصر کے خلاف موثر کارروائی کی جانی چاہئے تاکہ ان کی حوصلہ شکنی ہو اور یہ لوگ قانون ہاتھ میں لینے سے باز آنے لگیں۔ جو واقعہ پیش آیا ہے اور جس طرح سے لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کی گئی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور شرمناک بھی ہے ۔ ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہونچانا پولیس کی ذمہ داری ہے ۔