شراب کی فروخت سے اترپردیش، کرناٹک اور تلنگانہ کو زائد آمدنی

   

مجموعی آمدنی میں 19 فیصد حصہ داری، ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کے نام پر شراب کی حوصلہ افزائی
حیدرآباد۔ 10 جون (سیاست نیوز) ریاستوں میں ترقیاتی اور فلاحی اسکیمات کا دارومدار مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ہوتا ہے۔ ریاست کی مجموعی آمدنی کی بنیاد پر ریاست کا بجٹ طے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر ریاستوں کو مقامی ٹیکسوں اور سنٹرل ٹیکسیس میں حصہ داری سے بہتر آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں اکسائز ڈپارٹمنٹ کئی ریاستوں میں بہتر آمدنی کا اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ شراب کی فروخت جیسے جیسے بڑھتی جارہی ہے ریاستوں کی آمدنی میں اضافہ درج ہوا ہے۔ ملک میں شراب بندی کے حق میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کئی مواقع پر مہم چلائی گئی اور بعض ریاستوں نے شراب بندی کا تجربہ بھی کیا جو ناکام ثابت ہوا۔ اترپردیش ملک کی شراب سے آمدنی حاصل کرنے والی بڑی ریاست بن چکی ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق ریاست کی مجموعی آمدنی کا 21.4 فیصد حصہ شراب کی فروخت سے حاصل ہو رہا ہے۔ کرناٹک، تلنگانہ، پنجاب اور ہریانہ میں شراب کی فروخت سے ریاستی خزانہ کو بہتر آمدنی حاصل ہو رہی ہے۔ کرناٹک میں مجموعی آمدنی کا 19.2 فیصد حصہ شراب کی فروخت سے حاصل ہو رہا ہے جبکہ تلنگانہ میں شراب سے حاصل ہونے والی آمدنی 19 فیصد ہے۔ پنجاب میں 17.7 اور ہریانہ میں 15.3 فیصد آمدنی شراب کی فروخت سے حاصل ہو رہی ہے۔ ٹاملناڈو میں 11.8 فیصد جبکہ نئی دہلی میں 10.2 فیصد آمدنی محکمہ اکسائز سے حاصل ہوتی ہے۔ مہاراشٹرا جیسی اہم ریاست جہاں ممبئی میں تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں دیگر ریاستوں کے مقابلے زیادہ ہیں وہاں شراب کی فروخت سے 8.4 فیصد آمدنی حاصل ہوتی ہے۔ سیاسی پارٹیوں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو شراب کی حوصلہ شکنی کی حمایت کی جاتی ہے لیکن جب برسر اقتدار آتے ہیں تو ترقیاتی اور فلاحی کاموں کا بہانہ بناکر شراب کی فروخت کو مزید آسان بنا دیا جاتا ہے۔ 1؍F m/b/