شراب کی فروخت سے گذشتہ سال 34 ہزار کروڑ سے زائد کی آمدنی

   

ایک سال میں 7 ہزار کروڑ کا اضافہ، سرکاری خزانہ کو بھرنے کیلئے لکر پالیسی میں نرمی
حیدرآباد۔یکم؍ جنوری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مرکز کی جانب سے فنڈز کی اجرائی میں ناانصافی کے سبب سرکاری خزانہ کو پُر کرنے کیلئے شراب کی فروخت سے ہونے والی آمدنی کا سہارا لیا ہے۔ شراب کے بارے میں حکومت کی فراخدلانہ پالیسی کے نتیجہ میں 34117 کروڑ کی آمدنی ہوئی ہے جو گذشتہ سال کے مقابلہ 7 ہزار کروڑ زیادہ ہے۔ سرکاری محکمہ جات میں اکسائیز اینڈ پروہبیشن ڈپارٹمنٹ سے حکومت کو سب سے زیادہ آمدنی ہوئی ہے۔ یکم جنوری سے 30 ڈسمبر 2022 تک 34117 کروڑ کی شراب فروخت ہوئی ہے۔ 2021 سے تقابل کیا جائے تو یہ 7 ہزار کروڑ زیادہ ہے۔ 2020 کورونا لاک ڈاؤن کا سال رہا جس کے نتیجہ میں محکمہ اکسائیز کی آمدنی بری طرح متاثر ہوئی۔ 2022 میں حکومت کو محکمہ اکسائیز سے حوصلہ افزاء آمدنی ہوئی ہے۔ شراب کی فروخت میں رنگاریڈی اور حیدرآباد اضلاع ٹاپ رہے۔ 2022 میں 7800 کروڑ کا کاروبار ہوا جو دیگر اضلاع میں سرفہرست ہے۔ حیدرآباد 3638 کروڑ کاروبار کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔ نلگنڈہ ضلع میں 3447 کروڑ ، ورنگل ( اربن ) 3395 کروڑ، کریم نگر 2893 کروڑ، میدک 2841 کروڑ، محبوب نگر 2415 کروڑ اور کھمم میں 2145کروڑ کی شراب فروخت کی گئی۔ محکمہ آبکاری کے اعداد و شمار کے مطابق اپریل تا نومبر 2022 میں 25147 کروڑ کی شراب فروخت ہوئی ہے۔ اس مدت کے دوران شراب میں بیئر کی فروخت زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ 3.48 کروڑ بیئر کے کارٹن فروخت کئے گئے جبکہ دیگر شراب کے 2.52 کروڑ کارٹن فروخت ہوئے۔ تلنگانہ حکومت نے آمدنی میں اضافہ کیلئے دو مرتبہ شراب کی قیمت میں اضافہ کیا۔ حکومت نے نئی لکر پالیسی کے تحت شراب کی دکانات کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔ 2021 میں شراب کی دکانات کیلئے درخواستوں سے محکمہ اکسائیز کو 1200 کروڑ کی آمدنی ہوئی۔ 2014-15 سے تقابل کیا جائے تو ہر سال شراب کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ 2014-15 میں شراب کی فروخت سے 10888 کروڑ کی آمدنی ہوئی تھی جبکہ 2018-19 میں یہ آمدنی بڑھ کر 20850 کروڑ ہوگئی۔ر