شرجیل امام اور عمر خالد کو ضمانت نہیں ملی ‘ عدالت میں درخواست مسترد

,

   

سپریم کورٹ رولنگ کی روشنی میں درخواست ناقابل سماعت ۔ کوئی بھی دلیل قابل قبول نہیں ۔ اڈیشنل سشن جج کا فیصلہ

نئی دہلی 4 جولائی ( ایجنسیز ) دہلی کی ایک عدالت نے آج دہلی فسادات کیس میں ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی تازہ درخواست کو مسترد کردیا ہے ۔ عمر خالد اور شرجیل امام نے اس بنیاد پر ضمانت فراہم کرنے کی استدعا کی تھی کہ ان کی مسلسل قید اور مقدمہ کی سماعت کے آغاز میں تاخیر سے شخصی آمادی کے ان کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہوتی ہے ۔ دہلی پولیس نے درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی ۔کرکرڈومہ عدالتوں کے اڈیشنل سشن جج سمیر باجپائی نے ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کردیا ۔ عدالت نے کہا کہ گلفشا فاطمہ اور سید افتخار اندرابی سے متعلق فیصلے کو پہلے ہی بڑی بنچ سے رجوع کردیا گیا ہے اور جب تک وہاں مسئلہ کی یکسوئی نہیں ہوتی اس وقت تک عدالت کی جانب سے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی کسی بنیاد پر سماعت نہیں کی جاسکتی ۔ جج نے مزید کہا کہ ان دونوں کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کرنے کے سواء ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں رہ گیا ہے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے یہ واضح کیا کہ محفوظ عینی شاہدین پر جرح کی تکمیل یا پھر اس حکمنامہ کی اجرائی کے ایک سال کی تکمیل کے بعد ہی شرجیل امام اور عمر خالد کو اپنی ضمانت کی درخواست داخل کرنے کی اجازت ہوگی ۔ جج نے کہا کہ سپریم کورٹ کے اس حکمنامہ کے بعد یہ عدالت ضمانت منظور کرنے کی درخواستوں کی سماعت نہیںکرسکتی ۔ عدالت نے مزید کہا کہ در اصل یہ درخواستیں قابل سماعت ہی نہیں ہیں اور انہیں مسترد کیا جاتا ہے ۔ قبل ازیں عمر خالد نے یہ استدلال پیش کیا تھا کہ حالانکہ سپریم کورٹ نے 5 جنوری کو ان کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی تاہم مابعد جو عدالتی کارروائیاں ہوئی ہیں ان کے نتیجہ میں حالات تبدیل ہوگئے ہیں ۔ اسی بنیاد پر انہوں نے ضمانت کی درخواست دائر کی تھی ۔ شرجیل امام نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست ضمانت مسترد کئے جانے کے چھ ماہ بعد بھی عدالتی کارروائی میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ہے ۔ ان کا استدلال تھا کہ وہ تقریبا چھ سال سے کسی مقدمہ کے بغیر جیل میں ہیں اور کیس میں الزامات ابھی وضع کئے جانے ہیں۔ تاہم عدالت نے دونوں کے استدلال کو مسترد کردیا ۔